مصر پر غزہ سیز فائر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا اسرائیلی الزام، تجزیہ کار نے حقیقت بتا دی

مصر اپنی سلامتی کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا، سیز فائر مذاکرات پھر ہونگے: ابراہیم الدویری کا ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مغربی میڈیا نے مصر پر غزہ جنگ بندی کے اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا جو اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا تھا۔ امریکہ کے نیوز چینل سی این این کی طرف سے منگل کو شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مصر نے خاموشی کے ساتھ جنگ بندی کی اس تجویز کی شرائط کو تبدیل کر دیا جس پر اسرائیل نے اس ماہ کے شروع میں دستخط کر دیے تھے۔ اس طرح مصر نے آخر کار اس معاہدہ کو ناکامی سے دوچار کردیا جس کے ذریعہ سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکتی تھی۔

مصری انٹیلی جنس پر الزام

ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں مصری انٹیلی جنس کی جانب سے وہاں کے ایک سینئر اہلکار میجر جنرل احمد عبدالخالق، جو مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل کے فرسٹ ڈپٹی ہیں، کے ذریعے تبدیلیاں شامل کی گئیں۔ اس طرح حماس کو اسرائیلیوں کو پیش کیے گئے معاہدے سے مختلف معاہدہ پیش کیا گیا۔

اس کے جواب میں مصری سینٹر فار تھاٹ اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کے نائب صدر میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور ’’الحدث ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو میں بتایا کہ یہ بات سراسر غلط ہے اور جو کچھ نشر کیا گیا اس کا مقصد مصر اور مصری انٹیلی جنس کے کردار کو گدلانا تھا۔

مصری تجزیہ کار میجر جنرل ابراہیم الدویری
مصری تجزیہ کار میجر جنرل ابراہیم الدویری

ابراہیم الدویری نے کہا کہ جنگ کے پہلے دن سے مصر نے ثابت قدمی پر مبنی موقف اپنایا ہے۔ مصری حکام اپنی ثابت قدمیوں پر مبنی موقف سے ایک ذرہ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ مصری موقف کے اہم نکات میں اجتماعی سزا کو مسترد کرنا تھا، فلسطینی کاز کو ختم کرنے سے انکار تھا اور فلسطینی آبادی کو سینا میں لانے سے انکار شامل تھا۔ انہوں نے کہا حالیہ الزام تراشی ایک ایک سازش تھی جس کے خلاف مصر کھڑا رہا۔

فلسطینیوں کی نقل مکانی قبول نہیں

مصری تجزیہ کار نے انکشاف کیا کہ مصری سیاسی قیادت نے بلاشبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلسطینی آبادی کی سینا کی طرف نقل مکانی ایک ریڈ لائن ہے۔ اس قیادت کے پاس مصر کی قومی سلامتی کے تحفظ کے تمام موثر ذرائع موجود ہیں ۔ قومی سلامتی کا تحفظ مصری ریاست کے لیے دوسری ترجیحات پر مقدم ہے۔

انہوں نے کہا اسرائیل اپنے بحران کو بیرون ملک اور خاص طور پر مصر کو برآمد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے مصری قیادت کا فیصلہ یہ تھا کہ اسرائیل کو مصری ریاست کے غزہ میں ملوث ہونے کی قیمت پر اپنے مسائل حل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ابراہیم الدویری نے اس بات پر زور دیا کہ مصر نے 45 سال قبل اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ان دہائیوں کے دوران معاہدے کی تمام ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کے لحاظ سے مصر ایک علاقائی اور بین الاقوامی ماڈل بن کر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس امن معاہدے نے مصر کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے منع نہیں کیا اور نہ ہی کرے گا۔

مصری قومی سلامتی

میجر جنرل ابراہیم الدویری کے مطابق مصر اپنی قومی سلامتی کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ قاہرہ نے اس سے قبل متعدد بار اسرائیل کو رفح آپریشن کے نتائج سے خبردار کیا تھا لیکن اسرائیلی حکومت نے مصری، امریکی اور بین الاقوامی انتباہات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مشرقی رفح میں کارروائیاں شروع کردیں۔ پھر اسرائیلی فوج نے رفح کراسنگ پر بھی قبضہ کرلیا اور تنازع کو بڑھا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصر اور اس کے اقدامات امریکہ اور پوری عالمی برادری کے ساتھ ہیں اور اب بھی چل رہے ہیں تاکہ اسرائیل رفح آپریشن کو مکمل کرنا بند کرے اور کراسنگ سے دستبردار ہو جائے اور ہم غزہ کی پٹی میں امداد پہنچانے کی تحریک کو دوبارہ شروع کر سکیں۔

مصر کو نقصان اٹھانا پڑا

میجر جنرل الدویری نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ مصر، واشنگٹن اور پوری دنیا کے درمیان رفح میں فوجی آپریشن روکنے اور رفح کراسنگ سے اسرائیل کی دستبرداری کی ضرورت پر اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا اس حوالے سے اسرائیل پر اس وقت تک مزید دباؤ ڈالا جانا چاہیے جب تک وہ اس بین الاقوامی موقف کی تعمیل نہیں کر لیتا۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا مصری اقدام نہیں رکے گا۔ جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے تک مصر کوشش جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا اس حوالے سے مصر کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

مصری ماہر نے آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تمام اسرائیلی دعوے کہ اس نے رفح آپریشن کے آغاز سے پہلے مصر کے ساتھ ہم آہنگی کی تھی، ایک دعوے کے سوا کچھ نہیں۔ یہ حقیقت کے سراسر منافی ہیں۔ رفح کی جنگ میں پڑنے کے بعد اسرائیلی قیادت کو اب معلوم نہیں کہ یہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی۔ رفح کی کارروائی سے فرار کا راستہ تلاش کرنے کے لیے اسرائیل نے حالیہ الزام تراشی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں