مصر: امریکی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل سیریل کلر نے 5 افراد کو قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں پورٹ سعید اور اسماعیلیہ گورنریوں میں 3 خواتین کو قتل کرنے اور ان کی لاشیں صحرائی علاقوں میں پھینکنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے سیریل کلر نے نئی حیرت انگیز اعترافات کیے ہیں۔

40 سالہ کریم ایم ایم، جس پر مصر میں متعدد لڑکیوں کو قتل کرنے کا الزام ہے اور جو "گروپ کے قاتل" کے نام سے معروف ہے، نے اپنے ابتدائی اعترافات میں کہا کہ اس نے ایک امریکی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے اور وہ بطور استاد کام کرتا رہا ہے لیکن پھر اس نے وہ کام چھوڑ دیا۔ گرفتاری سے قبل وہ اپنا خود کا کام کر رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے اس وقت علیحدگی اختیار کر لی جب اس سے اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ وہ بچہ اس وقت دس سال کا ہے۔

سفاک قاتل کریم ایم ایم نے بتایا کہ وہ انٹرنیٹ کیفے اور نائٹ کلبوں کے ذریعے اپنے متاثرین سے ملا تھا۔ وہ اپنے متاثرہ افراد سے افسوسناک سلوک کرتا اور انہیں منشیات لینے پر مجبور کرتا تھا۔ اس کی بدسلوکی کا شکار خواتین کی تعداد 5 سے زیادہ تھی۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا ہے کہ ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف کرلیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے متاثرین سے بات چیت کرتا تھا اور ففتھ سیٹلمنٹ کے علاقے میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں آواز کی نقل پیدا کرتا تھا۔ اس نے اس طریقے سے پانچ خواتین سے رابطے کئے اور ان کو قتل کیا اور لاشیں گورنری کے صحرا میں پھینک دیں۔

مصری سیکورٹی سروسز نے پورٹ سعید اور اسماعیلیہ کے صحرائی علاقوں میں 3 خواتین کو قتل کرنے اور ان کی لاشیں پھینکنے کے الزام میں ہفتہ کی صبح اس سیریل کلر کو گرفتار کرلیا۔ پبلک سیکیورٹی کی تحقیقات سے قاہرہ میں گرفتار ہونے والے سیریل کلر کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں۔ ان تفصیلات میں بتایا گیا کہ ملزم کریم 1987 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک استاد کے طور پر کام کرتا رہا۔ پھر اس نے ایک مدت تک تجارت میں کام کیا۔ اس نے چار سال قبل اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔ اس نے جن کو قتل کیا وہ سب نائٹ گرلز تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں