اوباما نے یاھو سے متعلق کیا سخت ترین بات کی؟ ریپلکنز سے اسرائیل کی وفاداری پر دباؤ

نیتن یاہو کا ڈیموکریٹس پر ریپبلکن کو ترجیح دینے کا اثر اسرائیل کے لیے امریکی عوامی حمایت میں کمی سے ظاہر ہو رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جب سابق امریکی صدر براک اوباما نے 2014 میں اوول آفس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی میزبانی کی تو مؤخر الذکر نے انہیں غزہ کے مستقبل، فلسطینی ریاست اور ایرانی جوہری معاہدے کے بارے میں جس لہجے میں لیکچر دیا تھا اسے اوباما نے قابل مذمت قرار دیا اور مسترد کردیا تھا۔ ملاقات سے واقف دو افراد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ملاقات کے بعد جب ایک معاون نے پوچھا کہ معاملات کیسے چل رہے ہیں تو اوباما نے جواب دیا کہ نیتن یاہو نے میری ٹانگ پر پیشاب کردیا۔

رپورٹ کے مطابق وہ لمحہ اس تحرک کی علامت تھا جو اسرائیل کے بارے میں ان تلخ بحثوں پر منتج ہوا جو اب پورے امریکی سیاسی منظر نامے پر ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 16 سالوں کے دوران نیتن یاہو اپنے پیشروؤں کی دو طرفہ شراکت داری سے تیزی سے دور ہو گئے ہیں۔ وہ ریپبلکنز کو گلے لگاتے رہے اور ڈیموکریٹس کو حقیر سمجھتے رہے۔ اس رویے سے اسرائیل کے بارے میں دونوں جماعتوں کے نقطہ نظر میں شدت آگئی۔

اب غزہ کی جنگ نے اس تبدیلی کے اس سفر کو بہت تیز کر دیا ہے کیونکہ امریکیوں کی اسرائیل کے لیے بڑے پیمانے پر حمایت نسلی تعصب میں بدلنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ تقسیم جمہوری مباحثوں اور احتجاجی مظاہروں کی شکل کی سامنے آئی اور اب امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کر رہی ہے۔

اس صوورت حال پر ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ میرے خیال میں یہ کہنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے کہ نیتن یاہو پوری دنیا میں اسرائیل کی حمایت کو مکمل تباہی کا شکار کر رہے ہیں۔ امریکہ میں نیتن یاہو نے ریپلکن پارٹی کے ساتھ اسرائیل کے الحاق کا لاپروا فیصلہ کیا جس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔

لیکن اس تبدیلی کے لیے صرف نیتن یاہو ہی ذمہ دار نہیں ہیں۔ حالیہ برسوں میں ڈیموکریٹک پارٹی بھی ہولو کاسٹ کی یادوں کے درمیان بائیں طرف چلی گئی۔ اس ہولو کاسٹ نے طویل عرصے سے اسرائیل کے لیے امریکیوں کی ہمدردی کو مضبوط کیا تھا۔

نیتن یاھو کے سابق معاونین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی دائیں بازوں کے ساتھ صف بندی کرنے کی حکمت عملی کے ذریعے ہی تعلقات میں اس تبدیلی کی قیادت کی ہے۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے اختلاف کی بنیاد بنا اور اسرائیل کے لیے روایتی ریپلکنز کے پیار کا باعث بھی بنا۔

اس صورت حال میں بھی اسرائیل کے لیے خطرہ زیادہ نہیں ہو سکتا کیونکہ تمام فریقوں کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی فوجی اور سفارتی حمایت یہودی ریاست کے زندہ رہنے کی صلاحیت کے لیے اہم ہے کیونکہ اسرائیل کو طاقتور پڑوسیوں اور بڑھتے ہوئے سفارتی چیلنجوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا سامنا ہے۔

امریکہ کو اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا حامی سمجھا جاتا ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن مرفی نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر نیتن یاہو کو گزشتہ دس سالوں میں کئی بار ریپبلکنز کے ساتھ انتہائی قریبی صف بندی کرنے کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کبھی سننا نہیں چاہتے تھے۔

ماضی میں نیتن یاہو کی حکمت عملی صدر اوباما کی ایران پالیسی پر تنقید کرنے کے لیے 2015 میں ریپبلکن کی زیرقیادت کانگریس سے خطاب کرنے میں رہی یا ریپبلکن صدارتی امیدواروں مٹ رومنی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنی ترجیحات کی نشاندہی کرنے میں رہی ہے۔

موجودہ تنازع میں امدادی سامان کی ترسیل اور شہری تحفظ کے حوالے سے بائیڈن کی درخواستوں کو مسترد کرنا بعض اوقات سخت ہوجاتا ہے۔ نیتن یاہو کے ایک سینئر وزیر نے حال ہی میں ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ حماس بائیڈن سے محبت کرتی ہے۔ بدلے میں ریپبلکنز نے نیتن یاھو کو گلے لگانے میں تیزی دکھائی اور نتین یاھو کی پالیسیوں سے انحراف کرنے پر بائیڈن پر تنقید کرنے لگے۔

ریپبلکن ہاؤس کے سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ وہ نیتن یاہو کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے ایک ایسے وقت میں مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب وائٹ ہاؤس کو ان کی پالیسیوں پر گہری تشویش ہے۔ ریپبلکن نمائندے ایلیس سٹیفانیک، جو کانگریس میں اپنی پارٹی کی قیادت کی رکن ہیں، نے حال ہی میں اسرائیلی کنیسٹ کے ارکان کو یقین دلانے کے لیے اسرائیل کا سفر کیا اور کہا کہ امریکی صدر کے پاس اسرائیل کی امداد روکنے کا کوئی عذر نہیں ہے۔

کچھ اسرائیلی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کے لیے متحد امریکی حمایت کو مستقل طور پر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ، جو نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے رکن تھے، نے ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ موجودہ رہنما کی متعصبانہ حکمت عملی اسرائیل کے لیے امریکی عوامی حمایت کے خاتمے کا سبب بنی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں