گریز کرنے اور الجھنے لگے، بائیڈن میڈیا سے ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر بائیڈن صحافیوں کے خلاف غصے میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں میڈیا پر اپنے تلخ جملوں میں شدت کرتے دکھائی دئیے ہیں۔ بائیڈن کا سامنا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہے جو نومبر میں ہونے والے انتخابات میں دوسری مدت کے لیے امیدوار ہیں۔

حال ہی میں جب وہ گرجا گھر سے نکل رہے تھے تو انہوں نے ایک رپورٹر کو جس نے صرف اس سے پوچھا کہ انہوں نے اپنا دن کیسے گزارا جواب دیا کہ "میں نے آپ سب کے لیے دعا کی ہے۔ آپ کو مدد کی ضرورت ہے"

81 سالہ بائیڈن نے جمعرات کو کینیا کے صدر ولیم روٹو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ "آپ (صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کبھی بھی اپنی بات پر قائم نہیں رہتے"

ایک صحافی نے ان سے ہیٹی کی صورتحال اور غزہ کی جنگ کے بارے میں سوال کیا تو امریکی صدر نے پہلے تو کہا کہ وہ صرف ایک سوال کا جواب دیں گے اور پھر انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک مختصر تبصرہ ختم کیا۔ ڈیموکریٹک صدر کی انتخابی ٹیم ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت جمہوریت کو لاحق خطرہ کو کم بیان کرنے اور بائیڈن کی عمر میں ان کے نسبتا اچھے معاشی ریکارڈ سے زیادہ دلچسپی لینے پر میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔

صرف قدامت پسند میڈیا پر حملہ کرنے کے علاوہ بائیڈن کیمپ نے نیو یارک ٹائمز کے ساتھ ایک خاص دشمنی پیدا کر رکھی ہے۔ اس اخبار کو سینٹر لیفٹ سمجھا جاتا ہے۔ بائیڈن مہم کے ترجمان نے اس اخبار پر اس وقت حملہ کیا جب اخبار نے گزشتہ فروری میں معیشت کے بارے میں بائیڈن کے کچھ دعووں کی تردید کی تھی۔ ترجمان نے کہا تھا’’ڈونلڈ ٹرمپ کے جھوٹ پر کون آنکھیں بند کرتا ہے؟ نیویارک ٹائمز!"۔ تاہم ان تمام بیانات کے باوجود بائیڈن نے اپنے پیشرو ٹرمپ کی طرح پریس پر کبھی بھی سخت حملہ نہیں کیا ہے۔

ٹرمپ 77 سال کی عمر میں بولنے کے لیے کسی بھی پلیٹ فارم پر پہنچ جاتے ہیں ۔ بائیڈن اس سے دور رہتے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن بہت کم بڑی پریس کانفرنسیں کرتے ہیں۔ وہ شاذ و نادر ہی انٹرویو دیتے ہیں اور ہوائی جہاز کے طویل سفر کے دوران کوئی غیر رسمی گفتگو نہیں کرتے۔

کچھ عرصہ قبل تک وہ وائٹ ہاؤس سے نکلنے والے اپنے ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے پہلے کبھی کبھی دو یا تین سوالوں کے جواب دیتے تھے۔ ان دنوں میں وہ سلسلہ بھی مکمل رُک گیا ہے۔

بائیڈن کا یہ غصہ اور شکایت رائے عامہ کے جائزوں کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے۔ رائے عامہ کے جائزے بھی ان کے الیکشن کے لیے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ بہت سے پولز سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنا کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

صدر بائیڈن رائے عامہ کے جائزوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان دنوں عقلی رائے شماری کرنا مشکل ہے، کسی ایک فرد تک پہنچنے سے پہلے آپ کو بہت سارے فون کالز کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مثبت اشارے تلاش کرتے ہوئے انہی پولز کا تجزیہ بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پریس اس کے بارے میں بات نہیں کرتا لیکن یہ واضح ہے کہ حرکیات ہمارے حق میں ہیں۔

میگزین ’’ دا نیو یارکر‘‘ کی طرف سے "کیا بائیڈن کی مہم جھوٹی امید پر چل رہی ہے؟" کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ایک ڈیموکریٹک رہنما سائمن روزنبرگ نے کہا کہ وہ انتہائی پر امید ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں