سر کا پیچیدہ آپریشن، قدیم مصری کینسر کا علاج اس طرح کرتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

قدیم مصریوں کے متعلق ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ نئی سائنسی ثبوتوں کے ساتھ ایک نئی تحقیق کے مصریوں کے متعلق خیالات کا رخ موڑ دیا ہے۔ طب کی دنیا میں مصریوں کی حیرت انگیز ترقی کا آشکار کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ فراعنہ کے دور میں کینسر کے علاج میں اس حد تک ترقی ہو چکی تھی کہ وہ مریض کے سروں کا پیچیدہ آپریشن تک کرتے تھے۔

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قدیم مصری چار ہزار سال قبل کینسر کی رسولیوں کو دور کرنے کے لیے سر کی درست سرجری کرنے کے قابل تھے۔ قدیم متون اور الواح پر لکھی عبارتوں نے ثابت کیا ہے کہ قدیم مصری تمام قدیم تہذیبوں کے مقابلے میں طب میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔

وہ بیماریوں اور زخموں کی شناخت اور علاج کرنے کے قابل بھی تھے۔ یہاں تک کہ قدیم مصری دانتوں کی بھرائیوں کو بھی انسٹال کر سکتے تھے۔ مطالعے کے مطابق جہاں تک کینسر کا تعلق ہے وہ اس کا علاج نہیں بھی کر سکتے تھے تو انہوں نے اس کی کوشش ضرور کی ہو گی۔

اس تناظر میں سپین کی یونیورسٹی آف سینٹیاگو ڈی کمپوسٹیلا کے ماہر حیاتیات ایڈگارڈ کیماروس کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے تقریباً 4600 سال قدیم ایک مصری کھوپڑی پر تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق میں انہیں ایسی نشانیاں ملی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کھوپڑی کے مالک کو دماغی کینسر تھا اور اس کے ٹیومر کا علاج کیا گیا تھا۔ یہ تحقیق 29 مئی کو امریکی اخبارات میں شائع ہوئی۔

ڈاکٹر کیماروس نے وضاحت کی کہ جیسے ہی انہوں نے دریافت کیا کہ کھوپڑی اور اس کے رسولی کے علاج کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اس دریافت کی اہمیت اور قدیم مصری تہذیب میں طب کی ترقی کی حد تک وہ حیران رہ گئے۔

ایک مائیکروسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے کیماروس نے جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبینجن کی تاتیانا ٹونڈینی اور سپین کے ساگرات کور یونیورسٹی ہسپتال کے البرٹ سیڈرو کے ساتھ مل کر کھوپڑی کے کناروں کے گرد درجنوں لگائے گئے زخموں کے نشان پائے۔ یہ وہ نشانات ہیں جن کو پچھلے محققین نے دماغی کینسر سے جوڑا ہے۔

فرنٹیئرز ان میڈیسن نامی جریدے میں تین سائنس دانوں کی جانب سے شائع اس تحقیق کے مطابق کھوپڑی کی کٹ لگی ہوئی شکل سے ظاہر ہوتا یہ کٹ دھات کے آلے سے اور انسانی مداخلت سے لگائے گئے ہیں۔ اس دریافت نے یہ بھی اشارہ دے دیا ہے کہ قدیم مصری دماغ کے کینسر کا علاج سرجری کے ذریعے کرتے تھے کیونکہ یہ کٹ اس وقت لگائے گئے ہیں جب وہ شخص زندہ تھا۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہو۔

مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نئی دریافت نہ صرف مصری ادویات کے سائنسی علم کو بڑھاتی ہے بلکہ کینسر کے علاج کے لیے انسانیت کی ریکارڈ میں لائی گئی کوششوں کے لیے ٹائم لائن میں ایک ہزار سال تک کی توسیع کا باعث بن سکتی ہے۔ تحقیقی ٹیم کو امید ہے کہ ہزاروں سالوں میں کینسر کی بدلتی ہوئی نوعیت کو ظاہر کرنے سے ایسی معلومات سامنے آئیں گی جو آج علاج کے ڈیزائن میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر کیماروس کی ٹیم نے مطالعہ میں یہ بھی بتایا کہ انہیں 2600سال پرانی ایک اور کھوپڑی میں تکلیف دہ زخم کے کامیاب علاج کے شواہد ملے ہیں۔ جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات کے ماہر حیاتیات کیسی ایل کرک پیٹرک نے کہا کہ نئی تحقیق قدیم مصریوں کے کینسر کے ممکنہ علاج کا پہلا جسمانی ثبوت فراہم کرتی ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہر اور مصری وزارت سیاحت اور نوادرات کے چیف ماہر آثار قدیمہ مجدی شاکر نے کہا کہا ہے کہ کینسر دریافت کرنے والے پہلے لوگ قدیم مصری تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بات ’’ ایڈون سمتھ‘‘ کے لکھائی میں آئی ہے جو تقریبا 3600 سال قبل کی مصری تہذیب کے سب سے مشہور طبیب کے بارے میں لکھی گئی تھی۔

اس عبارت سے جو کچھ بتایا گیا ہے وہ چھاتی کے کینسر کی درست وضاحت ہے۔ یہ تاریخ میں چھاتی کے کینسر کو بیان کرنے کا پہلا حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہر نے مزید کہا ہے کہ قدیم مصریوں نے معمولی ٹیومر اور مہلک ٹیومر کے درمیان فرق کیا تھا۔ انہوں نے ان میں سے کچھ معاملات کا علاج "فائر ڈرل" نامی ایک خاص آلے کا استعمال کرتے ہوئے تجویز کیا تھا۔ مہلک رسولیوں کی صورت میں ’’کوئی علاج نہیں‘‘ کی کیفیت بیان کی گئی تھی۔ ماہر آثار قدیمہ نے مزید کہا کہ اس دریافت سے ثابت ہوتا ہے کہ قدیم مصری نے اس خیال کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے کہ کینسر کا کوئی علاج نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں