مصر اور اسرائیل میں غزہ کی سرحد پر سرنگوں سے متعلق کوئی رابطہ نہیں ہوا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قاہرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق مصر کے ایک سینیئر ذریعہ نے اسرائیل کے ساتھ ایسے کسی بھی قسم کے رابطوں کی تردید کردی ہے جس میں مصر کے ساتھ غزہ کی پٹی کی سرحد پر سرنگوں کی موجودگی کے اسرائیلی الزامات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہو۔

مسلسل بمباری کے جواز میں سرنگوں کا دعویٰ

مصری ذریعے نے کہا کہ اسرائیل سرنگوں کی موجودگی کا دعویٰ سیاسی مقاصد کے لیے اور جنگ کو طول دینے کے لیے کر رہا ہے۔ وہ رفح آپریشن کے جواز اور جاری رکھنے کے لیے اس علاقے میں سرنگوں کی دریافت کرنے کے دعوے کر رہا ہے۔

امداد کی ترسیل کے لیے مزید کام کی ضرورت

دریں اثنا اقوام متحدہ میں امریکی نائب سفیر رابرٹ ووڈ نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں بے گناہ فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔ اسرائیل کو اس حوالے سے کچھ مزید کرنا چاہیے کہ غزہ کی پٹی تک انسانی امداد کی نہ صرف محفوظ رسائی ہو بلکہ اس کو تقسیم بھی کیا جا سکے۔ رابرٹ ووڈ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے مزید کہا کہ اتوار کو ہونے والے فضائی حملوں جیسے واقعات کے نتیجے میں شہریوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ یہ صورت حال غزہ میں اسرائیل کے سٹریٹجک مقاصد کو کمزور کر رہی ہے۔

علاقائی تنازع کا انتباہ

مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹورے رینسلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر جنگ جاری رہنے کی وجہ سے ہر روز بڑے پیمانے پر علاقائی تنازع پھوٹ پڑنے کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں ٹورے رینسلینڈ نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

انہوں نے غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ اس لڑائی کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی اور شمالی اور جنوبی اسرائیل میں تقریبا ایک لاکھ اسرائیلی نقل مکانی کر چکے ہیں۔

غزہ میں طویل مدتی موجودگی مسترد

اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا کہ اسرائیل کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طویل مدتی موجودگی نہیں ہونی چاہیے۔ جہاں تک مغربی کنارے کی صورت حال کا تعلق ہے، ٹورے رینسلینڈ نے خبردار کیا کہ مغربی کنارہ دباؤ کا شکار اور منفی رجحانات رکھنے والی ایک جگہ ہے، وہاں پر کسی بھی وقت کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

غزہ فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ

ٹورے رینسلینڈ نے مزید کہا کہ غزہ ایک فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے۔ فلسطینی ریاست کو اپنی سرزمین میں کسی کمی کے بغیر موجود رہنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ اور مغربی کنارے کو سیاسی، اقتصادی اور انتظامی طور پر متحد کردیا جائے اور ان دونوں کو ایک فلسطینی حکومت اور ایک فلسطینی ریاست کے اختیار میں دے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ثالثوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں