مصنوعی ذہانت کا غزہ کے بارے میں حیران اور ششدر کردینے والا جواب

آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے ’غزہ‘ سرچ کرنے پرجواب میں اس نام کو فلسطین کے بجائے دنیا کے دیگر خطوں اور سمندر کی گہرائیوں میں پائی جانے والی چیزوں کا نام بتایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصنوعی ذہانت اکثر سوالات کے الٹ پلٹ جواب دے کرسرچ کرنے والوں کو حیران کرتی رہتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں زیربحث فلسطین کا علاقہ ’غزہ‘ جہاں آٹھ ماہ سےحماس اور اسرائیل کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے، مصنوعی ذہانت کے لیے اجنبی ہے۔ اس طرح غزہ زبان زد عام ہونے کے باوجود حیران کن طور پر’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے‘ کے مصداق ’آرٹیفشل انٹیلی جنس‘ غزہ کے الٹ پلٹ نام بیان کرتی ہے۔

مصنوعی ذہانت سے غزہ کی پٹی کے بارے میں استفسار کیا تواس نے جتنے بھی جواب دیے وہ سب اصل غزہ سے کوئی لگا نہیں کھاتے۔

اگرآپ فلسطین سے باہر غزہ کے نام کے بارے میں "مصنوعی ذہانت" سے پوچھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایشیا اور عرب خطہ میں لبنان ہی وہ واحد ملک ہے جس میں مشہور فلسطینی پٹی کے نام کی کوئی جگہ ملتی ہے۔ یہ مغربی بقاع کا ایک قصبہ بتایا جاتا ہے جو بیروت سے مشرق میں 62 کلو میٹر دور اور سطح سمندر سے 870 میٹر بلند ہے۔ گویا ’آے آئی‘ کے مطابق فلسطین میں اس نام کی کوئی جگہ نہیں۔

جہاں تک اس کی آبادی کا تعلق ہے تو ’اے آئی‘ کے مطابق اس کی آبادی کا60 فی صد زیادہ تر دوسرے براعظموں اور دوسرے ممالک میں جلاوطن ہوچکا ہے۔ ان میں سے 6,150 پچھلی مردم شماری کے مطابق رہ گئےتھے۔ شام میں خانہ جنگی کےدوران ہزاروں بے گھر شامیوں نے وہاں پناہ لی جس کے بعد اس کی آبادی اب 30,000 سے زیادہ لوگوں پر مشتمل ہے۔

غزہ کی افریقی سلطنت

حضرت ابو بکر صدیق کے دور میں عمرابن العاص کے ہاتھوں فتح ہونے والے ’غزہ‘ کے بارے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ایک جواب یہ ملتا ہے کہ یہ لفظ 1917ء سے 1935ء کے درمیان جنوبی آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ شہرکے ایک بڑے مضافاتی علاقے کا نام تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت کے جواب میں کہا گیا کہ غزہ نامی آسٹریلیا کے اس علاقے کا نام تبدیل کرکے جرمنی زبان میں ’کلیمزگ‘ رکھ دیا گیا تھا۔

غزہ کے گھونگے، وینزویلا کے ایک جزیرہ نما میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔
غزہ کے گھونگے، وینزویلا کے ایک جزیرہ نما میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔

افریقی براعظم پر میں غزہ کے تین مختلف جگہوں کے نام ملتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے جوابات کے مطابق ایک موزمبیق میں غزہ نامی صوبہ ہے۔ دوسرا افریقی براعظم کے جنوب مشرق میں موزمبیق اور زمبابوے کے درمیان ’غزہ لینڈ‘ کے نام سے علاقہ ہے، جب کہ تیسرے کا نام ’سلطنت غزہ‘ ہے جو 1824 سے 1895ء تک کے عرصے میں قائم رہی، تاہم 1895 کے بعد"غزہ سلطنت" دنیا کے نقشے سے غائب ہوگئی اور اس کا صرف نام باقی رہا۔

ہمیں غزہ کا نام امام الشافعی کی جائے پیدائش کے طور پربھی ملتا ہے۔ 2018 ء میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کی طرف سے شائع ہونے والی ایک کتاب Gaza: An Inquest into Its Martyrdom میں یہودی امریکی شاعر اور ادبی نقاد نارمن فنکلسٹائن جو بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کی عالمی ہمدردی حاصل کرنے اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے استعمال سے نفرت کے لیے مشہور ہیں۔

ہمیں ورثے کی کتابوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ 1,170 سال قبل بغداد میں ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" کے عنوان سے شائع کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب قریش کے ایک قافلے میں شام اور فلسطین کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کیا تھا۔

اس وقت عبداللہ کی عمر 25 سال تھی۔ چنانچہ انہوں نے غزہ میں کچھ دن گذارے۔ پھر واپسی پر یہ قافلہ یثرب سے گذرا، جہاں وہ بیماری میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے وہ مدینہ میں بنی عدی بن النجارقبیلے میں اپنے ماموں کے پاس رک گئے۔ ادھر مکہ میں ان کی اہلیہ آمنہ بنت وہب امید سے تھیں اور اپنے شوہر کی مکہ واپسی کا انتظار کر رہی تھیں۔ مگر موت نے انہیں آلیا اور وہ وہیں انتقال کرگئے۔

سمندر کی گہرائیوں میں

ان کے دوسرے ساتھیوں نے مکہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ جب وہ مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے ان سے اپنے بیٹے عبداللہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کی بیماری کی وجہ سے انہیں اس کے ماموں کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے حارث کو ان کی خبرگیری کے لیے بھیجا، مگر جب وہ مدینہ پہنچے تو اس وقت عبداللہ فوت ہوچکے تھے اور دارالنابغہ میں دفن تھے۔ حارث واپس آئے اور والد کو بھائی کی وفات کی خبر دی۔ اس واقعے کے چند ماہ بعد تاج دار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔

پھر "مصنوعی ذہانت" نے اپنے آرکائیو ڈیٹا کو مزید کھنگالا اوراسے غزہ کا نام سمندر کی گہرائیوں میں سیپیوں اور گھونگو میں ملا۔ انہیں لاطینی نام ’غزہ سپربا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ سمندری صدف کے خولوں کے اندرپایا جاتا ہے۔

ویکیپیڈیاکے مطابق وہ بحیرہ کیریبین کے پانیوں سے نیچے 180 میٹر کی اوسط گہرائی میں موجود ہیں، خاص طور پر وینزویلا کے لاس ایوس جزیرہ میں پائی جاتی ہیں۔

غزہ کنعانیوں نے تعمیر کیا تھا اور اسے 3,500 سال پہلےاس کا نام "ھزاتی" تھا۔ یہ نام سب سے مشہور قدیم زبانوں میں نام کے ساتھ موجود ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ’مرکزاطلاعات فلسطین‘ کے حوالے سے بتایا کہ فراعنہ نے اس کا نام "غزاتو" رکھا۔ پھر اس کا تلفظ آشوریوں اور یونانیوں نے "عزاتی" اور "فازہ" رکھا۔ عبرانیوں نے اس کا تلفظ "عزہ" اور عربوں نے اس کا تلفظ "غزہ" کے حروف سے کیاجس کا مطلب ’ناقابل تسخیر ‘ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں