'سعودی عرب 28 سالوں میں 169 ممالک کے لیے 129 ارب ڈالر کی امداد فراہم کر چکا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے شاہی دربار کے مشیر اور شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان ریلیف سینٹر نے سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئےانسانی خدمت کے حصے کے طور پر بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں مدد کی ہے، تاکہ ماحول کو بہتر بنانے، شہریوں خاص طور پر خواتین اور بچوں کی حفاظت، صلاحیتوں کو بہتر بنانے، محفوظ ماحول فراہم کی فراہمی اور تحفظ، عوامی صحت، فرد اور معاشرے پر بارودی سرنگوں کے سنگین اثرات کو کم کرنے میں مدد دی جا سکے۔

ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اعلان کردہ گرین مڈل ایسٹ انیشیٹو جس کی مالیت اڑھائی ارب ڈالر ہے، سعودی عرب اور خطے کی سمت کا تعین کرے گی۔ زمین اور فطرت کی حفاظت اور ماحولیاتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دے گی۔

129 بلین ڈالر

ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے وضاحت کی کہ 1996ء سے 2024ء کے عرصے میں سعودی عرب کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کا حجم 129 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جس سے دنیا کے 169 ممالک کے شہری مستفید ہوئے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے 13 مئی کو 2015ء کو شاہ سلمان ریلیف سینٹرکا قیام عمل میں آیا۔ اس نے سعودی انسانی ہمدردی کے سرگرمیوں کو مضبوط بنانے اور اس کے معیار اور کارکردگی کو بہتر کرنے، تمام بیرونی انسانی اور امدادی امور اور مملکت کے کاموں کو مرکز کی چھتری کے تحت منظم اور متحد کرنا کا موقع فراہم کیا۔

بین الاقوامی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز اور وہ واحد ادارہ ہے جو کسی بھی امدادی، خیراتی یا انسانی بنیادوں پرعطیات وصول کرنے کا مجاز ہے۔

انسانی ہمدردی کے 2925 منصوبے

شاہ ریلیف سینٹرکے منصوبے اب تک 99 ممالک میں 2,925 انسانی ہمدردی کے منصوبوں تک پہنچ چکے ہیں، جن کی مالیت 6 ارب 824 ملین اور چھ لاکھ 93 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ یہ رقم خوراک، تعلیم، صحت، پناہ گاہ، پانی، ماحولیاتی صفائی جیسے اہم شعبوں میں صرف کی گئی۔ بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی تنظیموں کے 180 شراکت داروں کے ساتھ مل کر دنیا کے متعدد ممالک میں بارودی سرنگوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے مرکز کی مساعی پر بات کی۔

اس ضمن میں یمن میں سعودی مائن کلیئرنس پراجیکٹ ’مسام‘ جون 2018ء میں شروع کیا گیا جس کا مقصد یمنی عوام کی مدد کرتے ہوئے انسانی اقدام کے طور پربارودی سرنگوں جیسے خطرناک رحجان کا مقابلہ کرنا ہے۔

ساڑھے چار لاکھ بارودی سرنگیں

ڈاکٹر الربیعہ نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ "مسام" پروجیکٹ کو سعودی کیڈرز اور بین الاقوامی ماہرین نے اپنی مختلف شکلوں اور تصادفی طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے لاگو کیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ اپنے آغاز سے لے کر اب تک 443,452 بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں کامیاب رہا۔ یہ بارودی سرنگیں مختلف یمنی زمینوں میں بچھائی گئی تھیں۔ 56,636,614 کیوبک میٹر زمین کو بارودی سرنگوں سے صاف کیا گیا جب کہ اس پروجیکٹ کے تحت بارودی سرنگوں کو تلف کرنے کے لیے 400 ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

عراقی مالی امداد

ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے مزید کہا کہ گذشتہ جنوری میں شاہ سلمان ریلیف سینٹر نے آذربائیجان کی نیشنل مائن ایکشن ایجنسی ’اناما‘ کے ساتھ مشترکہ تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کیے، تاکہ آذربائیجان کی زمینوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی جا سکے۔

سال 2024ء جمہوریہ عراق کی متعدد گورنریوں میں سروے کے منصوبوں اور کلسٹر گولہ بارود اور بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے مالی امداد فراہم کی۔

پروسٹیٹک پروگرام

انہوں نے کہا کہ مملکت جس کی نمائندگی شاہ سلمان ریلیف سینٹر کر رہا ہے نے یمن میں مصنوعی اعضاء کا پروگرام شروع کیا۔ یہ ایک مخصوص منصوبہ ہے جو کٹے ہوئے اعضاء کے لیے مصنوعی آلات تیار کرتا ہے اور فراہم کرتا ہے۔ متاثرہ افراد کے لیے بحالی کے مختلف پروگرام منعقد کرتا ہے جس سے 3,496,500 افراد مستفید ہوئے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر نے مائن کلیئرنس کی بین الاقوامی ذمہ داری کو مضبوط بنانے، اختراع کی حوصلہ افزائی کرنے اور مائن کلیئرنس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں نجی شعبے، تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کو شامل کرنے پر زور دیا۔

نیز مائن کلیئرنس کی کوششوں کے دائرہ کار کو بڑھانے میں انسانی برادری کو شامل کرنا ہے۔

انہوں نے یہ گفتگو جنرل سپروائزر کی بارودی سرنگوں کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے بارے میں تیسری بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے موقعے پر کہی۔ یہ کانفرنس جمہوریہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں