ترکیہ: 40 لاکھ آوارہ کتے آبادی کیلئے خطرہ، 1910 جیسے قتل عام کا امکان

ایردوآن پریشان، حکومت آوارہ کتوں کے انسانوں پر حملوں کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

استنبول کے ایشیائی علاقے کاڈیکوئی میں موسم سرما کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک کتے نے ایک بزرگ خاتون کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا اور زمین پر گرا دیا۔ بعد میں راہگیروں کی جانب سے بزرگ خاتون کو بچانے کی کوشش کی گئی۔ اس ویڈیو کلپ کو سوشل میڈیا صارفین نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا۔

اس ویڈیو کلپ کے ساتھ انقرہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کو کتوں کے کاٹنے کی تصاویر سوشل نیٹ ورکس پر پھیل گئیں۔ ان تصاویر نے آوارہ کتوں کی جارحیت کے خدشات کو بڑھا دیا۔ کتوں کے حملوں کے خطرات سے شہری تنگ آنے لگے ہیں۔

اس کے بعد اب کتے سے پاک گلیوں کو تلاش کرنے والی انجمنیں حکومت کو ایک مسودہ قانون نافذ کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ منظوری کے بعد یہ قانون پورے ترکیہ میں آوارہ کتوں کے پھیلاؤ کے رجحان کا مقابلہ کرے گا لیکن اس قانون پر بھی ترکیہ میں ایک الگ بحث شروع ہوگئی ہے۔

چار ملین یا شاید 10 ملین

حکومت نے آوارہ کتوں کی تعداد کا تخمینہ تقریباً 40 لاکھ لگایا تھا جب کہ وزیر زراعت نے کہا تھا کہ 2022 میں یہ تعداد دس ملین تک پہنچ جائے گی ۔ خود صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی بدھ کو اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایردوآن نے کہا کہ ترکیہ کو آوارہ کتوں کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے ریبیز کے کیسز میں اضافے کا حوالہ دیا جسے عالمی ادارہ صحت "ہائی رسک" قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کتوں کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ برس میں کتوں کی وجہ سے 3544 حادثات پیش آئے اور ان میں 55 اموات ہوئیں اور پانچ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے تیار کردہ مسودہ قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ کتوں کی بڑی تعداد کو پکڑ کر ان کی جلد کے نیچے برقی چپس لگا دی جائیں۔ اگر ان کتوں کو کسی شہری کی طرف سے اپنایا نہ گیا تو انہیں 30 دن کے اندر یوتھنیشیا کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

اس مسودہ قانون میں موت دینے والے نکتے پر ترکیہ میں بڑا تنازع کھڑا ہو رہا ہے۔ اس سے ذہن 1910 عیسوی کے ’’حیرسیز اڈا‘‘ کے سانحے کے طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اس وقت سلطنت عثمانیہ کے حکام نے استنبول میں 60 ہزار آوارہ کتوں کو پکڑا اور بحیرہ مرمرہ کے وسط میں واقع بنجر چٹانی جزیرے میں چھوڑ دیا تھا۔ اس جزیرے میں یہ کتے لڑ لڑ کر ایک دوسرے کو کھا گئے تھے۔

قتل عام یا نس بندی؟

جانوروں کی فلاح و بہبود کے کارکنان 1910 میں جو کچھ ہوا اس سے خوفزدہ ہیں۔ تاہم اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ترکیہ میں آوارہ کتوں کو سزائے موت دینے کا خیال کوئی نیا نہیں ہے۔ جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ یوتھنیشیا کی آڑ میں کتوں کا قتل عام ہوجائے گا۔

جانوروں کے حقوق کی فیڈریشن ’’ہائی کن فیڈ‘‘ کے نائب صدر ڈاکٹر حیدر اوزکان نے اس حوالے سے جراثیم کشی پر مشتمل ایک موثر حل اپنانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی 1,394 میونسپلٹیوں میں سے 1100 میں بھی جانوروں کی پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ان کتوں کی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیا جائے۔

اس حوالے سے استنبول میں آج اتوار کو ایک مظاہرے کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں قانون میں مرضی کی موت کو شامل کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ جانوروں کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کے لیے نس بندی کو اپنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

2021 سے نافذ قانون میونسپلٹیوں سے پناہ گاہیں قائم کرنے کا مطالبہ کرتا اور انہیں ایسا کرنے کے لیے ایک آخری تاریخ دیتا ہے جو ان کے سائز کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ تاہم جانوروں کی بہبود کے حامی اس مسئلے کے لیے مختص محدود صلاحیتوں پر تنقید کر رہے ہیں۔

تنازعات کے بڑھنے پر وزیر زراعت ابراہیم یومکلی نے تصدیق کی ہے کہ ایک سال میں 70 فیصد آوارہ کتوں کو جراثیم سے پاک کرکے ان کے پھیلاؤ پر قابو پانا ممکن ہے لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران نس بندی کرنے والوں کتوں کی سالانہ شرح 260,000 تک پہنچ گئی۔

صدر ایردوآن نے کتوں کی بہتات کے باعث بیرونی دنیا میں ترکیہ کی شبیہہ پر بری عکاسی کے بارے میں اپنی تشویش کا ناظہار کیا اور مزید بنیاد پرست طریقوں کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کتوں کی نس بندی اور انہیں گود لینے کی مہموں پر زور دیا تاکہ اگلے مرحلے میں جانے سے گریز کیا جا سکے۔

ترک ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن نے مشاورت کے فقدان کی مذمت کی اور قانون میں مرضی کی موت کے کسی بھی منصوبے کو شامل کرنے کی مخالفت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا قتل کرنا کوئی حل نہیں ہے۔ مؤثر نس بندی کے ذریعے کتوں کی تعداد کو کم کرنا مختصر وقت میں ممکن ہے۔

صدر ایردوآن نے کسی کو بھی اپنی حکومت کی کی رحمدلی پر سوال اٹھانے سے گریز کرنے کا کہا اور واضح کیا کہ پچھلے طریقوں نے بھی حل فراہم نہیں کیا ہے۔ اس لیے ہمیں اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنا چاہیے تاکہ سڑکوں کو سب کے لیے خاص طور پر بچوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

اس دوران ترکیہ میں کتوں کے قتل کو مسترد کرنے والوں اور قتل کرنے کے حامیوں کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے۔ قتل کے حامی شہر کی گلیوں میں آوارہ کتوں کے بچوں اور بوڑھوں پر حملہ کرنے کی خوفناک کہانیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔

پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے آپ کو "فرینک 1936" کہنے والے سائیکل پر سوار ایک سیاح نے بتایا کہ اس نے اپنے ذرائع آمدورفت کے پہیوں پر کتوں کے حملے کی وجہ سے ترکیہ کو عبور کرنا چھوڑ دیا تھا، سیاح نے کہا کہ سائیکل کتے کو پاگل بنا دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں