قانونی سقم، عالمی عدالت اسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے کو مسترد کرسکتی ہے!

مصری ماہر نے نیتن یاہو اور دیگر کی گرفتاری سے متعلق آئی سی سی پراسیکیوٹر کی استدعا میں خامی کا بتا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک مصری ماہر نے نیتن یاہو اور دیگر کی گرفتاری کے لیے آئی سی سی پراسیکیوٹر کے میمو میں ایک قانونی سقم کی نشان دہی کی ہے۔ اس خامی کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے مقدمے کو بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے مسترد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا میمورنڈم یا درخواست میں موجود الزامات صرف "انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگ" تک محدود ہیں اور جرم کے شواہد کی موجودگی کے باوجود ’’اجتماعی نسل کشی‘‘ کے جرم کا میمو میں تذکرہ نہیں کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث کو خصوصی بیانات میں انسداد دہشت گردی کے ماہر اور مصری پولیس کالج میں قانون کے پروفیسر میجر جنرل ڈاکٹر شوقی صلاح نے وضاحت کی کہ عالمی فوجداری عدالت میں نیتن یاھو اور دیگر کی گرفتاری سے متعلق پراسیکیوٹر کے میمورنڈم میں ایک قانونی خامی ہے۔ اس خامی کی وجہ سے بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے جنوبی افریقہ کے مقدمے کو مسترد کرنے کا خطرہ موجود ہے۔

انسداد دہشت گردی کے ماہر نے کہا کہ میمورنڈم میں شامل الزامات صرف اسرائیل کے وزیر اعظم اور ان کے وزیر دفاع پر انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات تک محدود ہیں اور ان پر نسل کشی کے جرم کے ارتکاب کا الزام نہیں لگایا گیا حالانکہ قانون کے آرٹیکل چھ کے بنیادی اصولوں کے مطابق نسل کشی کے جرم کے عناصر موجود تھے۔

میجر جنرل شوقی صلاح نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیل کے رہنماؤں پر نسل کشی کے جرم کے ارتکاب کا الزام عائد نہ کرنا پیش کئے گئے جنوبی افریقہ کے مقدمے سے متصادم ہے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت اپنے پراسیکیوٹر کی درخواست مسترد کر سکتی ہے۔

شہریوں کے خلاف جرائم

میجر جنرل شوقی صلاح نے تجویز پیش کی کہ مصر مذکورہ جنوبی افریقہ کے مقدمے میں شامل ہوکر نسل کشی کے جرم کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کرے گا۔ اسرائیل پر غزہ کی پٹی کی شہری آبادی کے خلاف جرائم کے حوالے سے کہا جائے گا کہ اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 سے آج تک نسل کشی کے جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا مصر کو جنوبی افریقہ کی ریاست اور اس کے مقدمے میں شامل ہونے والے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے بشرطیکہ ان میں سے ہر ایک اپنے اصل مقدمے سے منسلک ایک میمورنڈم پیش کرے اور اسرائیل پر نسل کشی کا الزام بھی لگائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن ملکوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جنوبی افریقہ کے مقدمے میں شامل ہونے کے لیے عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ شامل ہونے کی درخواست کی ہے ان سے اس حوالے سے ہم آہنگی پیدا کی جا رہی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع پر فرد جرم میں ترمیم کرتے ہوئے الزامات میں نسل کشی کے جرم کو بھی شامل کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ یہ ممالک اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف کو مدعا علیہان کی فہرست میں شامل کریں گے کہ یہ وہ اہم شخص ہیں جو سیاسی فوج کے احکامات کے مطابق فوجی کارروائیوں کی قیادت کرتا ہے۔ ملزمان کی فہرست میں داخلی سلامتی کے وزیر بین گویر اور وزیر خزانہ سموٹریچ بھی شامل ہوں گے۔

مصری میجر جنرل شوقی صلاح نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا آئین بتاتا ہے کہ پراسیکیوٹر پری ٹرائل چیمبر سے اپنی درخواست میں مذکور جرائم کی تفصیل میں ترمیم یا اضافہ کرکے گرفتاری کے وارنٹ میں ترمیم کرنے کی درخواست کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں