شین بام بھاری اکثریت سے میکسیکو کی پہلی خاتون صدر منتخب ہو گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

کلاڈیا شین بام پارڈو اتوار کو میکسیکو کی اولین خاتون صدر منتخب ہو گئیں۔ انتخابات کے ابتدائی سرکاری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طویل عرصے سے صنفی بنیاد پر تشدد سے دوچار ملک میں تاریخ رقم ہونے والی ہے۔

نئی منتخب ہونے والی صدر کو اپنے سرپرست اور سبکدوش ہونے والے صدر آندریس مینوئل لوپیز اوبراڈور کی حمایت وراثت میں ملی ہے، جن کی غریبوں میں مقبولیت نے انہیں کامیابی دلانے میں مدد کی۔ حکمراں جماعت کی امیدوار نے تقریباً 58-60 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

میکسیکو اپنی مردانہ ثقافت کے لیے جانا جاتا ہے۔ نیز اسے دنیا کی دوسری سب سے بڑی رومن کیتھولک آبادی کا گھر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے جس نے برسوں سے خواتین کے لیے زیادہ روایتی اقدار اور کرداروں پر زور دیا ہے۔

سوانحی خاکہ کلاڈیا شین بام پارڈو

کلاڈیا شین بام پارڈو 24 جون 1962 کو میکسیکو سٹی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان سائنس دانوں پر مشتمل ہے اور وہ اپنے والدین کی دوسری بیٹی ہیں۔ ان کے والد کارلوس کیمسٹ ہیں جبکہ ان کی والدہ اینی ایک حیاتیات دان ہیں۔ دونوں 1968 میں میکسیکو کی طلبہ تحریک میں شامل تھے۔

کلاڈیا نے کالج آف سائنسز اینڈ ہیومینیٹیز (سی سی ایچ)، پلانٹل سور کے ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے فیکلٹی آف سائنس اور میکسیکو کی قومی خودمختار یونیورسٹی میں طبیعیات کی تعلیم حاصل کی، جہاں سے انہوں نے 1989 میں گریجویشن کیا۔

انہوں نے معروف یو این اے ایم سے انرجی انجینیئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1995 میں وہ یو این اے ایم فیکلٹی آف انجینیئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ ان کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ بعنوان ’میکسیکو میں رہائشی توانائی کے رجحانات اور نقطہ نظر‘ نے ملک کے توانائی کے منظرنامے کے بارے میں ان کی گہری سوچ کو ظاہر کیا۔

سنہ 1995 میں کلاڈیا لارنس برکلے لیبارٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ایک سکالرشپ پر چار سال کے لیے کیلیفورنیا چلی گئیں۔ اسی سال وہ انجینیئرنگ انسٹی ٹیوٹ کے تعلیمی عملے میں شامل ہوگئیں۔

کلاڈیا نے سرکاری ایجنسیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دیگر اعلیٰ سطح کے عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔

نئی صدر کا سیاسی سفر

عوامی خدمت میں ان کا سفر 2000 میں اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے وفاقی ضلع کے سیکریٹری ماحولیات کا عہدہ سنبھالا۔ سنہ 2006 میں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اینڈریس لوپیز اوبراڈور کی صدارتی مہم میں بطور ترجمان شامل ہو گئیں۔

اس کے بعد انہوں نے اوبراڈور کی قیادت میں قومی ورثے کی سیکرٹری دفاع کا کردار ادا کیا۔ عوامی خدمت کے لیے ان کی لگن کی مزید مثال توانائی کی اصلاحاتی تحریک کی کوآرڈینیشن سے ملتی ہے، جہاں انہوں نے قانون سازی اور بحث کے لیے ’اڈیلیٹاس‘ نامی احتجاجی بریگیڈ کی قیادت کی۔

کلاڈیا کا سیاسی کیریئر ان کی قیادت اور لگن کا ثبوت ہے۔ 2015 میں انہوں نے تلپن میئر کے دفتر کی قیادت کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن کر رکاوٹوں کو توڑ دیا۔ ان کی کامیابیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور جولائی 2018 تک انہوں نے میکسیکو سٹی کی حکومت کی سربراہ کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون کی حیثیت سے ایک بار پھر تاریخ رقم کی۔

سبکدوش ہونے والے صدر کی قریبی ساتھی کلاڈیا انجینیئرنگ کے پس منظر کے ساتھ ایک متاثر کن ماضی رکھتی ہیں۔

کلاڈیا کی فتح میکسیکو کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے، جو اپنی مردانہ معاشرت اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی رومن کیتھولک آبادی کا گھر ہے، جس نے برسوں سے خواتین کے لیے زیادہ روایتی اقدار اور کرداروں پر زور دیا ہے۔

کلاڈیا امریکہ، میکسیکو یا کینیڈا یعنی شمالی امریکہ میں عام انتخابات جیتنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

میکسیکو کی سب سے چھوٹی ریاست تلیکسکالا میں کلاڈیا کی حامی 87 سالہ ایڈلمیرا مونٹیئل کا کہنا تھا: ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن میں کسی خاتون کو ووٹ دوں گی۔ اس سے پہلے ہم ووٹ بھی نہیں دے سکتے تھے اور اگر دیتے تو اس شخص کو ووٹ دینا تھا جسے آپ کے شوہر نے ووٹ دینے کے لیے کہا ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ بدل گیا ہے۔‘

رائٹرز کے مطابق کلاڈیا کے لیے آگے ایک پیچیدہ راستہ ہے۔ انہیں بھاری بجٹ خسارے اور کم معاشی نمو ورثے میں ملی ہے، جس کے ساتھ انہیں مقبول فلاحی پالیسیوں میں اضافے کے وعدوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔

انہوں نے سکیورٹی کو بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن انہوں نے اس حوالے سے بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں۔

دوسری جانب میکسیکو کی جدید تاریخ کے سب سے پرتشدد انتخابات میں 38 امیدوار جان سے گئے۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوپیز اوبراڈور کے دور میں منظم جرائم پیشہ گروہوں نے اپنا اثر ورسوخ بڑھایا۔

میکسیکو کی جدید تاریخ میں کسی بھی دوسری انتظامیہ کے مقابلے میں لوپیز اوبراڈور کے دور میں سب سے زیادہ افراد کی اموات ہوئیں یعنی 185،000 سے زیادہ۔

لاطینی امریکہ میں سیاسی خطرات کے ایک تجزیہ کار نیتھانیل پیرش فلنیری نے کہا کہ ’جب تک وہ پولیس کو بہتر بنانے اور سزا سے استثنیٰ کو کم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کو ایک اہم سطح تک لے جانے کا عہد نہیں کرتیں، کلاڈیا کے لیے ممکنہ طور پر سلامتی کی مجموعی سطح میں نمایاں بہتری مشکل ہوگی۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں