حج سیزن

مکہ مکرمہ کی طرف لے جانے والے ’’ انبیا کے راستے‘‘ کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

زمین پر سب سے قدیم سڑک اب بھی ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں سے گزرتے ہوئے ستر مقامات پر قدیم نشانیاں لیے ہوئے ہے۔ یہ عظیم الشان سڑک 409 کلومیٹر کے ذریعے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کو ملا رہی ہے۔

اس شاہراہ کو "انبیا کا راستہ" کہنے کی وجہ تقریباً 5 ہزار سال قبل اللہ کے پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے۔ کیونکہ اکثر انبیاء اسی راستے کے ذریعہ اللہ کے قدیم گھر کی طرف گئے ہیں اور یہ وہی بیت اللہ شریف ہے جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے اٹھائی تھی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے بھی اس راستے کے دیگر انبیا کے لیے راہ گزر بننے کا علم ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیص کے قریب وادی الازرق سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ نے کہا: ودی الازرق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے ہوئے ایک ثنیہ سے اتر رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ھرشی کے ٹیلے کے پاس آئے تو اسی طرح پوچھا کہ یہ کونسا ثنیہ ہے۔ لوگوں نے کہا یہ ثنیہ ھرشی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا گویا میں یونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں۔ سرخ جھریوں والے اونٹنی پر اونی چادر پہنے ہوئے ہیں اور تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ ان کی اونٹنی کے منہ کا کپڑا ریشے سے بنا ہوا ہے۔

اس راستے کو صرف انبیاء علیھم السلام نے ہی نہیں بلکہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کا اختیار دیا تو لاکھوں لوگوں نے اپنایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ستر انبیاء کرام حج کرتے ہوئے اونی کپڑے پہنے ہوئے فج الروحا کے راستے پر چلے۔

قدیم مقامی افراد نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو ملانے والی اس سڑک کے مراحل اور منزلوں کی توثیق کی ہے۔ یہ 10 منزلیں ہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر ایک دن کا ہوتا ہے۔ چاہے جانور پر سوار ہو یا پیدل چلنے والا اسے اس نبوی راستے پر سفر میں دس دن لگتے ہیں۔

اس شاہراہ پر آنے والے مقامات آباد ہیں اور وہاں پانی دستیاب ہے۔ اس صورت حال کو قدیم سفر کا سب سے اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ قدیم مسافر سڑکوں پر چلتے ہوئے اسی چیز کو مد نظر رکھتے تھے۔

مکہ اور مدینہ کے درمیان مراحل

اس قدیم سڑک پر ان منزلوں اور مقامات کے اب بھی پرانے نام ہیں۔ ان کا تذکرہ اسلام کے آغاز میں فتوحات اور حج کے اسفار میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں موجود ہے۔ مدینہ کا پہلا مرحلہ ذوالحلیفہ ہے جو مدینہ منورہ کے لوگوں کے لیے ایک مشہور میقات ہے۔ اسی طرح یہ مقام الحفیرہ، ملل اور السیالہ کے لوگوں کے لیے بھی میقات ہے۔

دوسرا مرحلہ السیالہ سے الروحاء اور پھر الرویثہ تک ہے۔ یہ تقریباً 35 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ تیسرا مرحلہ الرویثہ سے شروع ہو کر العرج تک ہے۔ چوتھا مرحلہ العرج سے سقیا بنی غفار تک ہے۔ پانچواں مرحلہ العبواء تک اور چھٹا مرحلہ العبواء سے الجحفہ تک ہے۔ اس کے بعد مکہ کے قریبی مراحل شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ قدید، عسفان اور بطن مر کے مراحل ہیں۔ اس کے بعد دسواں مرحلہ بطن مر سے مکہ مکرمہ تک ہے۔ اس طرح اس سفر میں دس دن لگ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ القاضی، جو انبیاء کے راستوں اور ہجرت کے راستوں کا سراغ لگانے میں سب سے مشہور معاصرین میں سے ایک ہیں، نے اس شاہراہ کے حوالے سے سنت نبوی سے متعلق کتابوں اور عربی شاعری میں مذکور ستر سے زائد مقامات کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے دو دہائیوں کی محنت سے اس شاہراہ پر موجود مقامات کا کھوج لگایا اور اس حوالے سے کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام ’’ درب الانبیاء‘‘ ہے۔ ’’درب الانبیا‘‘ کا مطلب ’’انبیا کا راستہ‘‘ ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں