ریاض: جوہری ری ایکٹر کو چلانے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا تربیتی پروگرام

پروگرام کا اہتمام کنگ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارجنٹائن کی کمپنی انفاب کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے مختلف شعبوں میں جوہری توانائی کے پر امن استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔ اسی سلسلہ میں مملکت کے قومی جوہری توانائی کا منصوبہ اور ملک کے پہلے ایٹمی سٹیشن کے قیام کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ کنگ عبداللہ سٹی برائے جوہری اور قابل تجدید توانائی نے حال ہی میں تعلیم اور تربیت کے مقاصد کے لیے کم توانائی کے تحقیقی ری ایکٹر سے فائدہ اٹھایا اور جوہری ری ایکٹر کے نظام کو چلانے کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے عملی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا۔ یہ پروگرام 26 مئی سے شروع ہوکر 6 جون 2024 کو اختام پذیر ہوگیا۔ پروگرام کا اہتمام کنگ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارجنٹائن کی کمپنی انفاب کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا تھا۔

یہ پروگرام شہر کی انسانی صلاحیت کو مزید قابلیت دینے میں دلچسپی کے فریم ورک کے اندر پیش کیا گیا۔ پروگرام کے شرکا کو جوہری ری ایکٹرز کے آپریشن اور ان کی نقل سے متعلق موضوعات پر ضروری معلومات فراہم کی گئیں۔ ان کے نظام کے بارے میں سیکھنے، جوہری ری ایکٹرز کے آپریشنل طریقہ کار کو نافذ کرنے اور پریزنٹیشن سمولیشن سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے جوہری سلامتی اور حفاظت کے طریقہ کار کا بتایا گیا۔

کم پاور ریسرچ ری ایکٹر (LPRR) میں جوہری ری ایکٹر آپریٹرز کو تربیت دینے اور اہل بنانے کے لیے بنائے گئے جدید سمولیشن سسٹمز میں سرمایہ کاری کی گئی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا تربیتی پروگرام تھاجو CAXT کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام ان کوششوں کا حصہ تھا جن کا مقصد مستقبل کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور تحقیق کے شعبے میں توانائیوں اور صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔

9 سرکاری ایجنسیوں کی نمائندگی کرنے والے سائنس اور انجینئرنگ کے شعبوں کے ماہرین کے 30 سے زیادہ تربیت یافتہ افراد نے پروگرام میں حصہ لیا۔ پروگرام میں جوہری ری ایکٹر کے نظام اور ذیلی نظام سے متعلق بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔

اس سے قبل شاہ عبداللہ سٹی برائے جوہری اور قابل تجدید توانائی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے تعاون سے وزارت توانائی کے نمائندوں کی موجودگی میں "نیوکلیئر نالج مینجمنٹ لیول 1 - آگاہی اور رہنمائی" کے عنوان سے ایک ورکشاپ کی میزبانی کی۔ اس ورکشاپ کا مقصد علم کے انتظام کی پالیسی اور حکمت عملی تیار کرنا، علم کے انتظام کے لیے موثر نقطہ نظر، علم کی منتقلی اور محفوظ کرنے، علم کے نقصان اور علم کے خطرات کا جائزہ لینا تھا۔

جوہری توانائی کی طرف مملکت کا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کے خطے میں توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے جوہری ری ایکٹر استعمال کرنے کے وسیع تر تناظر میں آتا ہے۔ یہ سعودی عرب کے ’’ویژن 2030‘‘ ک تحت ایک جوہری تحقیقی ری ایکٹر قائم کرنے سے بھی متعلق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں