.

’’حجاج کرام مطمئن رہیں، انھیں حلال کھانا ہی مہیا کیا جا رہا ہے‘‘

ٹال فری نمبر 8001166622 پر موصولہ شکایات کا 24 گھنٹے میں ازالہ کیا جا رہا ہے: ڈائریکٹر حج پاکستان مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حجاج کرام افواہوں پر کان نہ دھریں، وہ مکمل اطمینان رکھیں، انھیں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں حلال اور تازہ کھانا ہی مہیا کیا جارہا ہے۔ حجاج کرام کی شکایات ازالے کے ایک جامع میکانزم وضع کیا گیا ہے اور انھیں 24 گھنٹے میں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ وضاحت مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن میں تعینات ڈائریکٹر حج برائے رابطہ اور سہولت کاری سیّد مشاہد حسین خالد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کے نمایندے امتیاز احمد وریاہ سے خصوصی گفتگو میں کی ہے۔ ان سے بعض حجاج کرام کے انھیں ملنے والے کھانے کے بارے میں شکوک وشبہات کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ حجاج کرام اور مدینہ منورہ میں مقیم بعض پاکستانیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انھیں برازیل سے درآمد کردہ مرغی کا گوشت کھلایا جا رہا ہے اور یہ معلوم نہیں کہ ذبیحہ گوشت ہے یا جھٹکا کیا گیا ہے۔

جناب سیّد مشاہد حسین خالد نے بتایا کہ سعودی حکومت اپنے یہاں حلال کھانے اور تازہ اشیاء ہی درآمد کرتی ہے، اس لیے اس قسم کی افواہوں پر حجاج کرام کو کان دھرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سے جب حجاج کرام کو درپیش مسائل اور مشکلات کے ازالے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان کے حل کے لیے ایک جامع طریق کار بروئے کار لایا جارہا ہے۔

عازمین حج کے لیے رابطہ نمبر

ڈائریکٹر حج کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ میں حج مشن میں ایک کال سنٹر قائم ہے جہاں سعودی عرب میں موجود حجاج کرام اس ٹال فری نمبر پر 8001166622 چوبیس گھنٹے کے دوران میں کسی وقت بھی کال کرسکتے ہیں۔ اس نمبر پر موصول ہونے والی شکایات کو متعلقہ شعبے میں بھیج دیا جاتا ہے اور انھیں چوبیس گھنٹے میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس نمبر کے علاوہ اور پاکستان یا دنیا بھر سے ایک اور ٹال فری نمبر 966125500418 پر روزانہ ایک سو تک کالز موصول ہو رہی ہیں۔ یہ عام طور پر دو نوعیت کی ہوتی ہیں،ایک انکوائری کی بابت ہوتی ہیں۔ان میں حجاج کرام اپنی پروازوں کے شیڈول، پاسپورٹس یا دوسری سفری دستاویزات، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اقامتی عمارتوں یا اپنے قریبی لوگوں کے بارے میں معلومات پوچھتے ہیں۔ دوسری قسم کی کالز حجاج کو درپیش مسائل سے متعلق ہیں۔ وہ اپنی جائے قیام میں درپیش کھانے اور صفائی وغیرہ یا ٹرانسپورٹ سے متعلق شکایات کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آیندہ دنوں میں حجاج کرام کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر فون کالز کی تعداد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

عازمین کے سامان کی بازیابی

انھوں نے بعض حجاج کرام کے پاکستان سے سعودی عرب آتے ہوئے پرواز میں یا ہوائی اڈے میں سامان گم ہوجانے یا مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آتے ہوئے سابقہ جائے قیام میں رہ جانے سے متعلق سوال پر بتایا کہ اس طرح کے گم شدہ سامان کو ان کے مالکان تک پہنچانے کے لیے ’’گم شدہ اور بازیابی سامان‘‘ کے نام سے تین سیل قائم کیے گئے ہیں۔ یہ جدہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قائم ہیں۔ پہلے معاونینِ حجاج گم شدہ سامان قریب تر سیل تک پہنچاتے ہیں اور پھر وہ سامان متعلقہ حاجی کو اس کی جائے قیام عمارت میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب تک 33 سو سے زیادہ بیگ اور تھیلوں کو تلاش کر کے عازمین حج تک پہنچایا جاچکا ہے۔

حجاج کی نقل و حرکت

ان کی توجہ جب مکہ مکرمہ میں العزیزیہ میں مقیم پاکستانی حجاج کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی تو انھوں نے بتایا کہ اس بارے میں شکایات سے متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنی فاروق جمیل خوقیر کو آگاہ کردیا گیا ہے اور جلد یہ مسئلہ ہو جائے گا۔ بعض حجاج کرام نے ٹال فری نمبر پر بھی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے شکایات کی تھیں۔ انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ اس ٹرانسپورٹ کمپنی اور کھانا پکا کر مہیا کرنے کی ذمے دار تیرہ کیٹرنگ کمپنیوں کا انتخاب باقاعدہ بولی کے ذریعے کیا گیا تھا اور کم بولی دینے والی کمپنیوں کو یہ ٹھیکے دیے گئے ہیں۔

عازمین کی رہائش

ڈائریکٹر حج سے جب مدینہ منورہ میں حجاج کے قیام کے لیے حاصل کردہ ایک نسبتاً پرانے ہوٹل برج المودہ کو کرائے پر حاصل کرنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا انتخاب کیونکر کیا گیا تھا؟ کیونکہ اس میں فائیو اسٹار تو کیا فور اسٹار ہوٹل ایسی سہولتیں بھی دستیاب نہیں تھیں تو انھوں نے اس کی یہ وضاحت کی کہ حجاج کے لیے حاصل کردہ تمام عمارتیں سعودی حکومت کی منظور شدہ ہیں۔ ان عمارتوں کو کرائے پر لیتے وقت پہلے ایک پروفارما پُر کرایا جاتا ہے۔اس میں عمارت کے تمام کوائف درج ہوتے ہیں اور جو عمارت سعودی حکومت کے مقرر کردہ معیار پر پورا اترتی ہے،اس ہی کو حجاج کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔

سیّد مشاہد حسین خالد نے اپنی نظامت کے کام کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام کی رہ نمائی کے مسجد الحرام کے ارد گرد انیس مختلف مقامات پر معاونین مقرر کیے گئے ہیں۔ وہ راستہ بھٹک جانے والے عازمین حج کی رہ نمائی کر رہے ہیں۔ انھیں ان کے روٹ کی بس کے بارے میں بتاتے ہیں اور اگر کوئی حاجی بھول کر کسی اور روٹ کی بس پر سوار ہو کر کسی دوسری عمارت میں چلا جاتا ہے تو اس کو اس کی متعلقہ عمارت تک پہنچا آتے ہیں۔ حرم میں موجود معاونین حجاج کرام کو مختلف مناسک، طواف اور مسعی کے بارے میں رہ نمائی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر حج نے ریڈیو پاکستان سے ایک الگ انٹرویو میں کہا کہ مکہ مکرمہ میں دس سیکٹروں میں 500 پہیّا کرسیاں (وہیل چئیرز) مہیا کی گئی ہیں۔ جسمانی معذوری کا شکار عازمین حج کے لیے پاکستان حج مشن میں 1500 پہیا کرسیاں دستیاب ہیں۔ تاہم انھوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ پہیا کرسیاں ڈاکٹروں کے مشورے اور طے شدہ طریق کار کی تکمیل کے بعد ہی حجاج کو دی جاتی ہیں۔