.

شاہ عبدالعزیز لائبریری میں 'سفر حج' اور مسجد حرام کی نایاب تصاویر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شاہ عبدالعزیز جنرل لائبریری کے میں موجود کتب اور تاریخی دستاویزات میں حج اور فرزندان توحید کے سفر حرمین شریفین کے حوالے سے مستند معلومات اور نایاب تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ انہی میں سے چند تصاویر العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنے قارئین کے لیے منتخب کی ہیں۔

اسلامی تاریخ پرنظر ڈالنے سے معلومات ہوتا ہے کہ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں فریضہ حج کو ہمیشہ اہل اسلام کے ہاں غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔ مشرق و مغرب میں پھیلے مسلمان بیت اللہ کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مدینہ منورہ اور روضہ رسول ہمیشہ مرجع خلائق رہا۔ منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور دیگر مشاعر مقدسہ کی ایمان افروز زیارت مسلمانوں کا دیرینہ خواب رہا۔

دوسری جانب سعودی عرب کی موجودہ حکومت اور ماضی میں حجاز مقدس کی حکومتوں نے بھی دنیا بھر سے آنے والے اللہ کے مہمانوں کی خاطر تواضع، ان کی مدد، سہولت اور ہرقسم کی ضرورت پوری کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ سعودی عرب کی حکومت نے عازمین حج کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

حرمین کی زیارت کو آنے والے مسلمانوں کی خدمت کا سلسلہ سعودی مملکت کے پہلے فرمانروا شاہ عبدالعزیز مرحوم کے دور سے غیر معمولی انداز میں شروع کیا گیا۔ شاہ عبدالعزیز سے قبل اور اس کے بعد کے ادوار کی مسجد حرام میں ہونے والی تعمیر و ترقی اور تبدیلیوں کا دستاویزی ریکارڈ موجود ہے۔

شاہ عبدالعزیز سے موجودہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز تک ہر سعودی حکمران نے حجاج ومعتمرین اور زائرین مقامات مقدسہ کی سہولت اور ان کی ضروریات کو اولین ترجیح دی۔ 1740ء کے بعد سے حرمین اور دیگر مقامات کی شاہ عبدالعزیز جنرل لائبریری میں 5564 تصاویر کا ایک دبستان موجود ہے۔ حرمین شریفین کے علاوہ اس ذخیرہ تصاویر میں مشاعر مقدسہ اور سعودی عرب کے دیگر تاریخی سنگ ہائے میل کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

ان تصاویر میں سعودی عرب اور عرب دنیا کی سماجی زندگی، فن تعمیر، تاریخ، بازاروں، مساجد، شاہرائوں اور عام طرز زندگی کا پتا چلتا ہے۔ کچھ تصاویر الگ الگ ہیں جب کہ بڑی تعداد میں موجود تصاویر البم کی شکل میں رکھی گئی ہیں۔

نایاب اشیاء، کتب اور تصاویر

شاہ عبدالعزیز جنرل لائبریری میں صرف تاریخی کتب ہی نہیں بلکہ کئی تاریخی نوادرات بھی ہیں۔ ان نوادرات میں سعودی عرب، جزیرۃ العرب اور دوسرے ممالک کی نایاب اشیا شامل ہیں۔

جہاں تک لائبریری میں تاریخی تصاویر کی بات ہے تو اس میں پہلا تصویری البم میجر جنرل محمد صادق پاشا کے دورمیں تیار کیا تھا۔ اس البم میں حرمین شریفین، مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی تاریخی اور نایاب تصاویر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لائبریری میں شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کی 1419ھ کو خرید کرہ تصاویر کا ذخیرہ بھی محفوظ ہے۔ شاہ عبدالعزیز لائبریری مکہ معظمہ کے علاوہ دارالحکومت الریاض اور پیرس کلچرل انسٹیٹیوٹ میں بھی قائم کی گئی ہے۔

محمد صادق پاشا کی اپنی چار کتابیں اوران کے دور میں جمع کی گئی نوادرات اور تاریخی کتب شاہ عبدالعزیز لائبریری میں محفوظ کی گئی ہیں۔ ان کی کتب میں الوجہ اور ینبع کی طرف سے حجاز کے زمینی راستوں کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ 1877ء کا فوجی نقشہ، 1880ء میں لکھی گئی خشکی کے راستے مشعل کے ذریعے سفر حج پر مشتمل کتاب اور 'دلیل الحج للوارد الیٰ مکہ والمدینۃ من کل فج'سنہ 1985ء میں جاری کی گئی۔

شاہ عبدالعزیز جنرل لائبریری میں محفوظ تصاویر میں مصری مصور احمد پاشا حلمی کی تیار کردہ 365 تصاویر بھی شامل ہیں۔ یہ تصاویر شاہ فارق نے اس وقت بنوائی تھیں جب شاہ عبدالعزیز مرحوم مکہ اور مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔