.

انڈونیشین حاجن کا نصف صدی بعد دوسرے حج کا تجربہ کیسا رہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے برسوں قبل کے حج اور اج کے حج کی سہولیات میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ جس نے نصف صدی قبل فرئضہ حج ادا کیا ہو اگراسے آج ایک بار پھر حج کا موقع ملتا ہے تواس کےلیےجدید کی سہولیات حیران کن ہوں گی۔

کچھ ہی ایسا تجربہ ایک انڈونیشین حاجن رومیاتی نے کیا۔ حاجیہ رومیاتی نے 48 برس پہلے حج کیا تھا۔ سنہ 1440ھ کے حج سیزن میں وہ ایک بار پھر اس عظیم عبادت کی ادائی کےلیے مکہ معظمہ پہنچی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ویڈیو فوٹیج میں حاجن رومیاتی نے کہا کہ وہ حج سپروائزر کے طور پرکام کرتی ہیں۔ سنہ 1971ء میں انہوں نے حج کے لیے سعودی عرب کا پہلا سفر کیا۔ آج سے برسوں قبل حرم مکی اور مشاعر مقدسہ میں عازمین حج کو وہ سہولیات میسر نہیں تھیں جو آج دستیاب ہیں۔ اس کا مزید کہا ہے کہ زمزم کے کنوئیں سے روایتی طریقے سے پانی نکالا جاتا۔ کنوئیں سے پانی نکالنے کے لیے وہی پرانی رسی اور ڈول استعمال کیے جاتےمگر آج بالکل حالات مختلف ہیں۔

رمیاتی کا مزید کہنا ہے کہ اس نے پہلا سفر حج بحری جہاز کے ذریعے کیا۔ اسے انڈونیشیا سے سعودی عرب پہنچنے تک 32 دن لگے۔ آج روڈ ٹو مکہ پروگرام کے تحت جدید ترین سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ چند گھنٹوں میں مکہ معظمہ پہنچایا جاسکتا ہے۔