.

حج نے 30 برس بعد دو ہم جماعتوں کو ایک بار پھر ملا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حج کے موقع پر دنیا کے کونے کونے سے فرزندان توحید بیت اللہ کے دیدار کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ اس بار سعودی عرب پہنچنے والے اللہ کے مہمانوں میں دو ایسے غیر ملکی بھی شامل ہیں جو 30 سال کے بعد ایک دوسرے سے ملے ہیں۔ دونوں مدینہ منورہ کی اسلامی یورنیوسٹی میں ہم جماعت تھے مگر جامعہ سے فراغت اور اپنے ملکوں کو واپس جانے بعد تین عشرے گذر گئے اور آج حج نے انہیں ایک بار پھر ملا دیا۔

تفصیلات کے مطابق کومورس کے سید رفقی عبداللہ اور افریقی ملک موزمبیق کے عمر فضل اللہ مکہ کے ایک ہوٹل میں حج کے لیے پہنچے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور بہت زیادہ خوش بھی ہوئے۔ اتفاق سے دونوں کا قیام ایک ہی ہوٹل میں ہے۔ دونوں ایک ساتھ گھومتے پھرتے ہیں۔ خوش گپیاں لگاتے اور یونیورسٹی دور کی اچھی یادیں تازہ کرتے ہیں۔

دونوں مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے۔ سنہ 1410ھ کو انہوں نے سند فراغت حاصل کی مگر انہیں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے خصوصی حج کی دعوت پر حجاز مقدس بلایا گیا۔

سید رفقی نے اپنے دیرینہ دوست اور ہم جماعت سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہماری ملاقات تیس سال بعد ہوئی ہے مگر ہمیں پرانی یادیں پھر سے تازہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مدینہ منورہ میں ہم جماعت کی حیثیت سے ایک ساتھ گھومتے پھرتے تھے اور آج شاہ سلمان کی مہربانی سے ہم دونوں مکہ معظمہ میں حج کی تیاری سے قبل گھوم پھر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ایک ہی سیکشن، ایک ہی کلاس اور ایک ہی مضمون کے طالب علم تھے۔

موزمبیق کے عمر فضل اللہ کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنا دوسرا وطن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے طویل مدت یہاں تحصیل علم میں گذاری۔ اس ملک کی یادیں ان کے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوں گی۔ انہوں نے خادم الحرمین کی صحت وتندرستی اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے دعا کے ساتھ خصوصی حج کی دعوت دینے پر خادم الحرمین الشریفین کا شکریہ ادا کیا۔