.

حجاج کرام کا پہلا یوم تشریق: منیٰ میں رمی جمرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حجاج کرام اپنے مناسک حج کی ادائی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج پہلے یوم تشریق کو لاکھوں حجاج کرام نے نماز فجر کے بعد منیٰ کے مقام پر جمرہ عقبہ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل شروع کیا۔

سوموار کے روز زوال کے بعد ہر حاجی نے سنت ابراہیمی کے کو زندہ کرتے ہوئے کنکریاں ماریں۔ سعودی عرب نے شیطان کو کنکریا مارنے کی کے سلسلے میں حجاج کرام کی سہولت کے لیے کثیر منزلہ جمرات پل تعمیر کیا ہے جس میں ایک گھنٹے میں 3 لاکھ حجاج کرام کنکریاں مار سکتے ہیں۔

سنت نبوی کے مطابق حجاج کرام تینوں ایام تشریق یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحج کو منیٰ میں رات گذاریں گے۔ ان تین دنوں میں حجاج کرام قربانی دینے کی سنت کو جاری رکھتے ہیں۔ قربانی کا گوشت خراب ہونے سے بچانے کے لیے اسے ٹھنڈا رکھا جاتا ہے۔ یہاں سے واپسی پر حجاج کرام بیت اللہ کی طرف لوٹتے اور طواف وداع کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ شیڈول کے مطابق اپنے وطن کو لوٹ جاتے ہیں۔