.

حجاج کی تعداد محدود کرنے سے کرونا کے پھیلاؤ کا تناسب 3% سے کم ہو جائے گا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے رواں سال 1442 ہجری میں حجاج کی تعداد 60 ہزار مقرر کرنے سے کرونا وائرس کی روک تھام میں مدد ملے گی اور اس کے پھیلاؤ کا تناسب 3% سے بھی کم ہو جائے گا۔ اس طرح اللہ کے مہمانوں کی سلامتی کو تحفظ ملے گا۔ یہ بات ایک سائنسی مطالعے میں بتائی گئی۔ یہ مطالعاتی رپورٹ ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے تیار کی ہے۔ ٹیم کے سربراہ ام القری یونیورسٹی کے سکریٹری ڈاکٹر علی الشاعری ہیں۔

تحقیقی مطالعے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔ اس میں حج کے دوران میں متعدد وبا کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیقی ٹیم میں ام القری یونیورسٹی کے علاوہ الامارات یونیورسٹی، اوہایو یونیورسٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ فار سائنسز کے محققین شامل تھے۔

ڈاکٹر علی الشاعری کے مطابق اس مطالعے میں خطرے کے ان حالات کا جائزہ لیا گیا ہے جو مجمع اور ہجوم کی سلامتی پر منفی طور اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ویژن 2030ء پروگرام کی روشنی میں سعودی عرب کے مقررہ ہدف کو یقینی بنانے میں بھی مدد گاڑ ثابت ہو گی۔ مملکت کا ہدف ہے کہ حجاج و معتمرین کی سالانہ تعداد 3 کروڑ تک پہنچائی جائے۔