.

سخت احتیاطی اقدامات کے بیچ حجاج کرام کے استقبال کی تیاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ برس 5 روز تک جاری رہنے والے مناسک حج کے دوران میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔ اس برس بھی سعودی عرب نے مملکت میں موجود شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کو حج کی اجازت دی ہے۔ اس سلسلے میں 5.58 لاکھ درخواست گزاروں میں سے کمپیوٹر کے ذریعے 60 ہزار افراد کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تمام حجاج کے لیے کرونا کی ویکسین بنیادی اور لازمی شرط قرار دی گئی ہے۔

اگرچہ گذشتہ برس (2020ء) کے مقابلے میں رواں سال حجاج کی تعداد زیادہ ہے تاہم معمول کے حالات میں حج سیزنوں کے لحاظ سے یہ بہت کم ہے۔

دوسری جانب نائب وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر عبدالفتاح مشاط کا کہنا ہے ک رواں سال حجاج کرام کا انتخاب الکٹرونک طریقے سے عمل میں آیا ہے۔ العربیہ نیوز چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مملکت میں شہریوں اور 150 ملکوں سے تعلق رکھنے والے مقیمین میں سے 60 ہزار افراد کو منتخب کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2019ء میں دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

وزارت حج نے نے باور کرایا ہے کہ وہ کرونا کی وبا کی روشنی میں صحت سے متعلق اعلی ترین سطح پر احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہے۔ رواں سال 18 سے 65 سال کے درمیان عمر کے عازمین حج کو اجازت دی گئی ہے۔ دیرینہ امراض والے افراد کو اجازت نہیں ہو گی۔

علاوہ ازیں سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ رواں سال "حج اسمارٹ کارڈ"متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد حجاج کرام کی انسانی لمس کے بغیر خیموں اور ہوٹلوں تک رسائی اور مقامات مقدسہ میں منتقلی ہے۔ یہ کارڈ ہر اُس حاجی کا پتہ لگانے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا جس سے رابطہ منقطع ہو چکا ہو۔

اسی طرح سعودی حکام نے سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے آب زمزم کی تقسیم کے لیے سفید اور سیاہ رنگ کے روبوٹ کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔

حجاج کرام ہفتے کے روز مکہ مکرمہ پہنچیں گے۔ اس کے بعد اتوار 8 ذو الحجہ کو منی پہنچنے کے ساتھ ہی مناسک حج کا آغاز ہو جائے گا۔ پیر 9 ذو الحجہ کو حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کیا جائے گا اور منگل 10 ذو الحجہ عید الاضحی کا پہلا روز ہو گا۔