.
حج وعمرہ

مرکزی حج کمیشن کا حج انتظامات کی تکمیل کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نایب وزیر حج وعمرہ ڈاکٹر عبدالفتاھ مشاط نے حج کےسلسلے میں تمام ضروری اقدامات کرلیے گئے ہیں۔ حجاج کرام کو جدید ترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں مناسک حج کی ادائی کے لیے اسمارٹ کارڈ بھی شامل ہے۔

یہ اسمارٹ کارڈ حجاج کرام کو ایک جگہ جمع ہونے، روانگی کے اوقات، مشاعر مقدسہ میں قیام گاہ کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ اس موقعے پرسبز،سرخ، زرد اور نیلے رنگ کے چار مختلف اسمارٹ حج کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ ہر رنگ کا اسمارٹ حج کارمشاعر مقدسہ میں الگ الگ مقامات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ کارڈ مشاعر مقدسہ کے اسمارٹ گیٹس سے داخلے، اجتماعی روانگی کے شیڈول اور اللہ کے مہمانوں کے مناسک حج کے دیگر امور میں ان کی رہ نمائی کرے گا۔

درایں اثنا مکہ معظمہ میں حجاج کرام کےلیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے ذمہ دار ادارے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حجاج کے لیے 3،000 بسیں فراہم کی گئیں ہیں۔ ان بسوں میں کرونا وبا کے پیش نظراحتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ہر بس 20 حجاج کرام کے ساتھ ایک گائیڈ کی نگرانی میں چلے گی۔

حج کے موقع پر حجاج کرام کو کھانا فراہم کرنے کی ذمہ دار انتظامیہ نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

یہ تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری طرف مکہ معظمہ کے ڈپٹی گورنر اور حج کمیٹی کے نائب صدر شہزادہ بدر بن سلطان بے منیٰ میں حج انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں حج وعمرہ کمیٹی کے نائب وزیر ڈاکٹر عبدالفتاح مشاط اور حج انتظامات کے دیگر ذمہ دار اداروں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

شہزادہ بدر بن سلطان
شہزادہ بدر بن سلطان

اس موقع پر مکہ مکرمہ کے ڈپٹی گورنر کو حج سیزن کےدوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ حج کےایام میں مکہ معظمہ میں داخل ہونے کے چار راستے ہیں۔ عازمین حج الشمیسی، التنعیم، السیل اور الھدا کے راستوں سے مکہ میں داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ریل کے ذریعے بھی عازمین حج مکہ معظمہ میں آئیں گے۔ عازمین حج اور دوسرے مسافروں کی چھان بین کے لیے ان کے اجازت ناموں کی مشین کے ذریعے جانچ کی جائےگی۔

بیان میں کہا گیاہے کہ حج کے موقع پر منیٰ میں 10 طبی مراکز مختص کیے گئے ہیں۔ مشرقی عرفات، جبل رحمت اور منیٰ وادی میں تین اسپتال اور عرفات میں تین طبی مراکز اور منیٰ میں حجاج کرام کے لیے تین قیام گاہیں قائم کی گئی ہیں۔