.

عازمین حج کا طواف قدوم؛ مسجدِ حرام لبیک اللھم لبیک کی صداؤں سے گونج اٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا وبا کے پیش نظر اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے عازمین حج نے آج ہفتے سے مناسک حج کی ادائی شروع کردی ہے۔

حجاج کرام کے قافلے حرم مکی میں داخل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی آمد کے بعد ’طواف قدوم‘ کا آغازکیا ہے۔

حرم مکی میں داخلے سے قبل النواریہ، الزایدی، الشرائع اور الھدا مراکز میں حجاج کرام کا استقبال کیا گیا۔ وہاں سے وہ طواف قدوم کے لیے مسجد حرام میں پہنچ رہے ہیں۔

حرم مکی میں آمد سے قبل چھے چھے ہزار عازمین پر مشتمل گروپ تشکیل دیے گئے ہیں اور وہ ہر تین گھنٹے بعد پہلے گروپ کے طواف کے بعد مسجد حرام میں داخل ہوں گے۔ طواف قدوم کا پہلا مرحلہ سات ذی الحج مقامی وقت کے مطابق صبح چھے بجے شروع ہوا تھا اور یہ 8 ذی الحج کو رات 9 بجے تک جاری رہے گا۔

سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ نے حجاج کرام کے استقبال اور ان کے ایک جگہ جمع ہونے کے حوالے سے پلان ترتیب دیا ہے۔ حجاج کرام الزایدی کے مقام پر جمع ہوں گے۔ وہاں سے وہ حرم مکی کی طرف چلیں گے اور الشبیکہ اسکوائر میں اکٹھے ہوں گے۔ اس کے بعد النواریہ مرکز پر آنے والے عازمین حج شاہ عبدالعزیز اسٹیشن کے قریب جمع ہوں گے۔

الشرائع مرکز میں آنے والے عازمین اجیاد الصافی اسٹیشن میں جمع ہوں گے۔ النسیم مرکز میں آنے والے حجاج بھی اجیاد الصافی میں اکٹھے ہوں گے۔ تاہم ان کی آمد ورفت کے راستے الگ الگ ہوں گے۔ ایک دن میں 48 ہزار حجاج کرام مسجد حرام کے قریب جمع ہو سکیں گے۔

طواف قدوم کی تکمیل کے بعد عازمین حج مسجد حرام سے نکلیں گے اور بسوں کے ذریعے باب علی اسٹیشن سے ہوتے ہوئے جمرات پل تک جائیں گے۔ اس موقع پر 200 بسوں کے ذریعے ایک وقت میں 2 ہزار عازمین حج کو ہر تین گھنٹے کے وقفے کے بعد جمرات پل تک پہنچایا جائے گا۔ وہاں سے عازمین حج منیٰ پہنچیں گے۔ منیٰ انھیں الگ الگ رنگوں کے ٹریکس کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

حجاج کے لیے ٹرانسپورٹ
حجاج کے لیے ٹرانسپورٹ

حج کے موقع پر ٹریفک کے امور کے انچارج عبدالرحمن الحربی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ حج کے سفر کے دوران عازمین کو لے جانے والی بسوں میں سینی ٹائزر کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر کرونا وبا کے پیش نظر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلے کی پابندی کرائی جائے گی۔