.

کرونا کے سبب اہلِ مکہ حجاج کے استقبال سے متعلق رواج پر عمل پیرا ہونے سے قاصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ کے لوگوں کی یادداشت میں حج سیزن سے متعلق کئی عادات و رواج محفوظ ہیں۔ تاہم کرونا کی روک تھام کے واسطے کیے گئے احتیاطی اقدامات کے بیچ مکہ کے لوگوں کا ان رواجوں پر عمل کا سلسلہ موقوف ہو گیا ہے۔

مکہ مکرمہ کے ایک شہری سراج معتوق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان عادات اور رواجوں میں آب زمزم، مکہ مکرمہ کی پرانی مٹھائیوں اور گلاب کے پھولوں کے ذریعے حجاج بیت اللہ کا استقبال نمایاں امور ہیں۔

حجاج کرام کو مکہ آمد پر پھولوں کے ہار پہنائے جارہے ہیں۔
حجاج کرام کو مکہ آمد پر پھولوں کے ہار پہنائے جارہے ہیں۔

سراج نے مزید بتایا کہ مکہ کے لوگ اندرون ملک کے حجاج کرام کو مناسک کی ادائیگی کے بعد واپسی پر "النثیرہ" کے رواج کے ساتھ رخصت کیا کرتے تھے۔ اس رواج کے تحت خشک میوہ جات کو ایک خالی برتن میں رکھ کر انہیں ملا لیا جاتا تھا۔ اس کے بعد حجاج کرام کے پہنچنے پر فورا ان پر یہ میوہ جات اچھال دیے جاتے تھے۔ اس دوران میں لوک گیت اور نظمیں بھی پڑھی جاتی تھیں۔

سراج کے مطابق ایک رواج یہ بھی تھا کہ ذو الحجہ کے آغاز کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کی خواتین "المعمول" کی تیاری میں مصروف ہو جاتیں۔ المعمول مکہ کے لوگوں کو موسمی پکوان شمار ہوتا ہے اور یہ اُن قدیم ترین پکوانوں میں سے ہے جو مقامی لوگ حج کے سیزن کے دوران تیار کرتے ہیں۔ المعمول کی تیاری کے واسطے خواتین کا اجتماع "الصنيع" کہلاتا ہے۔ بعض خواتین آٹے کی خصوصی روٹی تیار کرتی ہیں جب کہ دیگر خواتین کھجور کے اندر سے گٹھلیاں نکالنے کا کام انجام دیتی ہیں۔ بقیہ خواتین دیگر تیاری کرتی ہیں۔ تیاری کے بعد ان خواتین کے گرھوں کے مرد لکڑی کے بکسوں میں رکھ کر مقامات مقدسہ حجاج کرام کے لیے پہنچاتے ہیں۔

روایتی سعودی سوغات النقل
روایتی سعودی سوغات النقل

سراج نے مزید بتایا کہ حج سیزن کے ساتھ مروبط پرانی عادات و رواج میں "الخلیف" بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں مرد حضرات 8 ذو الحجہ کو یوم ترویہ کے دن کے آغاز کے ساتھ ہی مقامات مقدسہ کا رخ کرتے۔ وقوف عرفہ کے دن مکہ مکرمہ مردوں سے خالی ہو جاتا تھا۔ محلوں اور گھروں کے پہرے کے لیے خواتین باہر نکل آتی تھیں۔ اس دوران میں اگر کوئی مرد کسی بیماری یا مرض کے عذر کے بغیر مکہ میں نظر آ جاتا تو خواتین اسے مخصوص جملوں کے ساتھ عار دلاتیں۔

سراج کے مطابق مکہ کے لوگ حجاج بیت اللہ کی آمد پر یا ان کے رخصت ہونے پر ضیافتوں کا اہتمام کرتے تھے۔ اسی طرح وہ حجاج کرام کے لیے چائے اور قہوہ بھی لے کر جاتے تھے۔