.

کرونا کے سبب حج میں مسلسل دوسرے سال عازمین کی محدود تعداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال فریضہ حج کی ادائیگی کے سلسلے میں عازمین حج آج ہفتے کے روز سے مکہ مکرمہ پہنچ رہے ہیں۔ کرونا کی وبا کے سبب رواں سال حج میں شرکت کو مملکت میں اُن شہریوں اور غیر ملکی مقیمین تک محدود رکھا گیا ہے جنہوں نے کووڈ-19 کی ویکسین نیشن کرا لی ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب حجاج کرام کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے۔

رواں سال مناسک حج میں تقریبا 60 ہزار افراد شریک ہو رہے ہیں۔ ان افراد کا انتخاب 5.58 لاکھ درخواست گزاروں میں سے "الکٹرونک چیکنگ سسٹم" کے ذریعے کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 2019ء میں دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

مناسک حج کا آغاز کل 8 ذو الحجہ سے ہو گا۔ اس روز عازمین حج مِنیٰ میں قیام کریں گے۔

سعودی حکام نے مکہ مکرمہ میں مسجد حرام آنے والے مرکزی راستوں پر کئی سیکورٹی چیک پوسٹس قائم کر دی ہیں۔

سعودی وزارت حج نے نے باور کرایا ہے کہ وہ کرونا کی وبا کی روشنی میں صحت سے متعلق اعلی ترین سطح پر احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہے۔ رواں سال 18 سے 65 سال کے درمیان عمر کے عازمین حج کو اجازت دی گئی ہے۔ دیرینہ امراض والے افراد کو اجازت نہیں ہو گی۔

گذشتہ برس کرونا کی وبا کے سبب سعودی عرب نے جدید تاریخ میں تعداد کے لحاظ سے سب سے چھوٹے حج کا انتظام کیا تھا۔

سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ رواں سال "حج اسمارٹ کارڈ"متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد حجاج کرام کی انسانی لمس کے بغیر خیموں اور ہوٹلوں تک رسائی اور مقامات مقدسہ میں منتقلی ہے۔ یہ کارڈ ہر اُس حاجی کا پتہ لگانے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا جس سے رابطہ منقطع ہو چکا ہو۔

سعودی حکام نے سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے آب زمزم کی تقسیم کے لیے سفید اور سیاہ رنگ کے روبوٹ کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔

وزارت حج کا کہنا ہے کہ وہ حجاج کرام کی نقل و حرکت کے لیے 3000 بسیں فراہم کرے گی۔ ہر بس میں صرف 20 عازمین موجود ہوں گے۔

حج سیزن کے دوران بھی مسجد حرام میں حجر اسود تک رسائی پر پابندی برقرار رہے گی۔