.

حج سیکورٹی فورسز میں شامل سعودی خواتین کی "العربيہ" سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال حج سیزن میں پہلی مرتبہ خواتین اہل کاروں کو بھی سیکورٹی فورسز میں شامل ہو کر خدمات انجام دینے کا موقع ملا ہے۔ ان اہل کاروں میں نوجوان خاتون جواہر الشمری بھی شامل ہیں۔ اُن کے والد نے اپنی ساری زندگی ایک سیکورٹی سیکٹر میں خدمات انجام دیتے ہوئے گزار دی۔ جواہر کا دل بچپن سے ہی اپنے والد کی عسکری وردی کے ساتھ معلق رہتا تھا۔ انہیں اپنے والد پر فخر محسوس ہوتا تھا۔

العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے جواہر نے کہا کہ مِنیٰ میں سیکورٹی فورسز میں شامل ہو کر کام کرنا ان کے لیے قابل فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "رواں سال میں حج سیزن میں سول ڈیفنس کے ڈائریکٹریٹ جنرل میں بطور سیفٹی انسپیکٹر کام کر رہی ہوں۔ عسکری سیکٹر میں میری آمد دینی اور قومی خدمت انجام دینے کے لیے ہے"۔

مِنیٰ میں نگرانی کی سرگرمیاں انجام دینے میں مصروف ایک خاتون عسکری اہل کار نے العربیہ کو بتایا کہ "سول ڈیفنس میں سیفٹی انسپیکٹر کی ذمے داریوں میں حفاظتی نگرانی، حجاج کے خیموں پر کھڑا ہونا اور مناسک حج کی ادائیگی کے دوران میں حجاج کی سلامتی اور تحفظ کے تقاضوں کے پورا ہونے کو یقینی بنانا شامل ہے"۔

ایک اور عسکری خاتون اہل کار کے مطابق ان کے تفتیشی گشت کا سلسلہ مقامات مقدسہ میں حج کے تمام ایام تک جاری رہے گا۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹکنالوجی اور ایپلی کیشنز کا استعمال کیا جائے گا جس سے نگرانی کا عمل آسان ہو جائے گا۔