.
حج وعمرہ

’مشعر منیٰ‘ اہم تاریخی اور دینی لینڈ مارک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشعر منیٰ مشاعر مقدسہ اور مناسک حج کے حوالے سے اہم ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ منیٰ ایک تاریخی اور دینی اہمیت کا حامل مقام ہے جو جس کے ساتھ کئی تاریخی واقعات وابستہ ہیں۔

مشعر منیٰ حرم کی حدود میں مزدلفہ اور مکہ کے درمیان واقع ہے جو مسجد حرام کے شمال مشرق میں 7 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔

منیٰ کے مقام کو شمال اور جنوب کی سمت میں پہاڑ پہاڑوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ یہاں پر حج کے ایام میں حجاج کرام قیام کرتے ہیں۔ منیٰ کے مکہ کی سمت میں جمرہ العقبہ واقع ہے جب کہ مزدلفہ کی سمت میں وادی محسر واقع ہے۔

مکہ اور معالم نبوت کے مورخ سمیر احمد برقہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشعر منیٰ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں پر جسر جمرات، مسجد الخیف واقع ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ ذی الحج کو حجۃ الوداع کا خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔

منیٰ میں موجود مسجد البیعہ خاص اس مقام پر تعمیرکی گئی ہے جہاں اسلام کی پہلی بیعت لی گئی۔ تاریخی مقامات میں جبل المرسلات ہے جہاں پر سورہ المرسلات نازل ہوئی۔

مورخ برقہ نے بتایا کہ منیٰ کے تاریخی مقامات میں جبل ثبیر نامی ایک پہاڑ ہے۔ اس کی چوٹی پر اس وقت منیٰ پل تعمیر کیا گیا ہے اور وہاں پر حجاج کرام کے خیمے ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا مگر ان کی جگہ اللہ نے جنت سے ایک مینڈھا اتارا۔

منیٰ میں ایک کنواں ہے جسے عین زبیدہ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پر پرانے چشموں کا ایک مجموعہ بھی ہے۔ ان میں ایک مشہور بئر کدانہ کہلاتا ہے۔

مشعر منیٰ تاریخی بازاروں کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ تاریخی بازاروں میں سوق العرب ایک ایسا بازار ہے جسے صدیوں سے حجاج کرام تحائف خرید کرتے ہیں۔