.

حجاج کرام طلوع آفتاب کے بعد ’رکن اعظم‘ کی جانب گامزن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج نو ذی الحج کوحجاج کرام رکن اعظم کی ادائی کے لیے میدان عرفات کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔ حجاج کرام آج شام سورج غروب ہونے تک میدان عرفات میں قیام کریں گے۔

اگرحجاج کرام کو سہولت ہو تو وہ نمرہ میں پڑاؤ کرسکتے ہیں۔ یہ عمل سنت بھی ہے۔ تاہم اور ایسا کرنا مشکل ہو حجاج کرام عرفہ کی حدود میں قیام کرسکتے ہیں۔ وہاں پر حجاج کرام کی رہ نمائی کے لیے کئی مقامات پر رہ نما بورڈ نصب ہیں۔

رکن اعظم کی ادائی کے روز حجاج کرام تلبیہ پڑھتے، ذکر اذکار،تسبیح وتہلیل اور استغفار کرتے ہیں اور اللہ سے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔ یہاں پر اکثر حجاج کرام اپنے اہل عیال اور مسلمانوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ ظہر کے وقت امام خطبہ دیتا ہے جس میں لوگوں کو دینی امور سے متعلق وعظ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد حجاج کرام ظہراور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں۔ یہاں پر اس سے قبل، دوران یا بعد میں کوئی اورنماز ادا نہیں کی جاتی۔

میدان عرفات میں جمع ہونے والےحاجیوں کو غلطیوں سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے تاکہ ان کا اجرو ثواب ضائع نہ ہو۔

نو ذی الحج کی شام کو غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں وہ مغرب اور عشا کی قصر نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ اکھٹی ادا کرتے ہیں۔