.

’یوم ترویہ‘ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشاعر مقدسہ میں ایک اہم مقدس مقام ’منیٰ‘ ہے۔ حجاج کرام صدیوں سے منیٰ کے مقام پر’یوم ترویہ‘ کا منسک ادا کرتے ہیں۔ زمزم کے پانی کا ایک چھینٹا حجاج کرام کے دلوں اور جسموں کی پیاس بجھا دیتا ہے۔

حجاج کرام 8 ذی الحج کو منیٰ میں ’یوم ترویہ‘ کے مناسک ادا کرتے ہیں۔ آج کے جدید دور کی سہولیات کے برعکس ماضی میں حجاج کرام ترویہ کے موقعے پراپنے ساتھ پانی کے گیلن لایا کرتے۔

آٹھ ذی الحج کو حجاج کرام پانی لے کر منیٰ پہنچتے ہیں تاکہ نو ذی الحج کو عرفہ کے دن کی تیاری کی جاسکے۔

سعودی عرب میں حج وعمرہ امور کے ماہر احمد صالح حلبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پرانے دور میں حجاج کرام اپنے ساتھ پانی لے کر منیٰ آتے۔ اس وقت پانی نہ ہونے کے برابر تھا۔ حجاج کرام اپنے ساتھ اتنا پانی لاتے جو اگلے ایک دن کے لیے بھی کافی ہوجاتا۔ حجاج کرام قریبی پانی کے ذخائر سے اونٹوں پر لاد کرپانی لاتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دن کو ’یوم ترویہ‘ کا نام دیا گیا۔