.

حجاج کرام شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے لیے منیٰ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حجاج کرام مزدلفہ میں کچھ دیر قیام کے بعد وسط شب کو منیٰ کہ طرف روانہ ہو گئے جہاں وہ آج جمرہ عقبہ میں رمی جمرات کے دوران سات سات کنکریاں ماریں گے۔ کل سوموار کو میدان عرفات میں رکن اعظم کی ادائی کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

حجاج کرام کی ایک سے دوسرے مقدس مقام کی طرف نقل وحرکت کے لیے ایک مربوط پلان تیار کیا گیا تھا جس کی پیروی کرتے ہوئے تمام حجاج کرام نظم وضبط کے ساتھ مناسک حج ادا کر رہے ہیں۔

سعودی وزارت حج کی طرف سے حجاج کے لیے کنکریوں کا خصوصی طور پر انتظام کیا گیا ہے۔ انہیں پلاسٹک کی تھیلیوں میں پیک کنکریاں پیش کی گئی ہیں اور صحت کے پروٹوکول کے تحت کنکریوں کو بھی جراثیم سے پاک کیا گیا ہے۔

جمرہ عقبہ جسے جمرہ کبریٰ بھی کہا جاتا ہے میں حجاج کرام احرام کی حالت میں رمی کرتے ہیں۔ اس کے بعد قربانی دیتے، احرام اتارے، بال کٹواتے ہیں۔ رمی جمرات کا عمل طلوع آفتاب سے عیدالاضحیٰ کے پہلے دن دس ذی الحج کو سنت رسول کے مطابق سورج کے زوال تک جاری رہتا ہے۔

حجاج کرام ایام تشریق کے دن 11، 12 اور 13 ذی الحج تک منیٰ میں قیام کرتے ہیں۔ اس دوران وہ تین بار رمی جمرات کرتے ہیں۔ جمرہ اولیٰ۔ جمرہ وسطیٰ اور جمرہ کبریٰ کے دوران سات سات کنکریاں پھینکی جاتی ہیں۔