.

رُکن اعظم کی ادائی کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کی مسجد ’مشعرالحرام‘ میں آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حجاج کرام رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کرنے کے بعد پیر شام کو مزدلفہ کی جانب روانہ ہوئے جہاں مسجد ’مشعر الحرام‘ ان کا اگلا پڑاؤ تھا۔

مزدلفہ میں ایک تاریخی مسجد ہے جس کا نام قرآنی آیت (فإذا أفضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام) جب تم عرفات سے پھیل جاؤ تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کو یاد کرو‘ میں آیا ہے۔

مزدلفہ کی مسجد مشعر الحرام کا عرفات کی مسجد نمرہ اور منیٰ کی مسجد الخیف کی نصف مسافت کے برابر ہے۔ میدان عرفات سے روانگی کے بعد اسی مقام پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اترے۔

حجاج کرام کی آمد سے قبل سعودی عرب کی حکومت، وزارت مذہبی امور اور دیگر محکموں نے حجاج کے لیے تمام ضروری لوازمات فراہم کیے۔ مزدلفہ پہنچنے پر ٹھنڈا پانی اور ماسک بھی دیئے گئے۔

المشعر الحرام
المشعر الحرام

تیسری صدی ھجری تک مسجد مشعر الحرام ایک سادہ اور چھوٹی سے مسجد تھی جس کی کوئی چھت تک نہیں تھی۔ موجودہ سعودی دور حکومت میں مسجد کی توسیع کر کے اس کی لمبائی 90 میٹر اور چوڑائی 56 میٹر کردی۔ اس طرح اب اس مسجد میں 12 ہزار نمازی بہ جماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد کے 32 میٹر اونچے دو مینار ہیں جب کہ اس میں داخلے کے لیے مشرقی، جنوبی اور شمالی سمتوں سے راستے موجود ہیں۔

مسجد المشعر الحرام ..
مسجد المشعر الحرام ..

مزدلفہ کو مشاعر مقدسہ میں تیسرا اہم مقام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مقام منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔ عرفات سے نکلنے کے بعد حجاج کرام رات مزدلفہ میں گذارتے ہیں۔ یہیں پر وہ مغرب اور عشا کی نمازیں قصر کے ساتھ ایک ساتھ ادا کرتے ہیں منیٰ میں رمی جمرات کے لیے کنکریاں اٹھاتے ہیں۔ اگلے دن عیدالاضحیٰ ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔