خلیجی ممالک کے حجاج کی آرام گاہ ’الاحساء‘ کے "عین نجم" کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں الاحساء کا تاریخی ’عین نجم‘ 280 سال سے زائد عرصے سے خلیجی ممالک سے آنے والے زائرین کے قافلوں کے لیے ملاقات اور آرام کی جگہ کے طور پر حج کے موسم میں ایک مقام رہا ہے۔ اس جگہ کے ساتھ پرانے دور کی کئی یادیں وابستہ ہیں اور یہ خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے درمیان حج سیزن کا ایک تاریخی مقام رہا ہے۔ پانی کے چشموں اور زرعی کھیتوں میں گھرا یہ مقام خلیجی ممالک کے حجاج کی ملاقات اور ان کے درمیان اپنے اپنے راستوں پر چلے جانے کی وجہ سے ایک سنگھم رہا ہے۔

تاریخی حوالوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’عین نجم‘ اپنے گندھک کے پانی کی وجہ سے مشہور ہے۔اس کا پانی 30 سال پہلے ختم ہو چکا ہے۔ یہ جگہ خلیجی ممالک کے قافلوں کے لیے ایک آرام گاہ ہے۔ وہاں پرانہیں ان سے کھانا مہیا کیا جاتا۔ حج کے موقعے پر خلیجی ممالک سے مکہ معظمہ کی طرف آنے والےعازمین حج کے قافلے اسی راستے سے گذر کر اپنی منزل مقصود تک پہنچتے تھے۔

الاحسا کے مورخ خالد الفریدہ کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے حج قافلوں کے استبقال کے لیے’عین نجم‘ کا اہم کردار رہا ہے۔

حجاج کرام کی آرام گاہ

الفرید نے کہا کہ قدیم خلیجی ممالک کے زائرین زمینی راستے سے آتے تھے اور مکہ کے سفر کے دوران انہیں الاحساء سے گذرنا ہوتا۔ خاص طور پر عمان، امارات اور قطر کے زائرین کے لیے یہی راستہ تھا۔ یہ ایک اقتصادی اور سماجی جگہ تھی۔ علاقے کے لوگ نہ صرف عین نجم میں حجاج کا استقبال یا انہیں الوداع کرتے بلکہ یہ ایک آرام کی جگہ تھی جہاں حجاج آرام کرتے تھے اور اس کے میٹھےپانی سے استفادہ کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عین نجم میں رات کے قیام کےلیے عین نجم میں باقاعدہ کمرے بنائے گئے تھے۔ بعض لوگ انہیں کرائے پر لے لیا کرتے، لیکن وہاں پر حاجیوں کے قیام کے لیےکچھ لوگ خیمے بناتے ہیں اور کچھ دن وہاں قیام کرتے ہیں۔

الفریدہ نے اس امر کا اظہار کیا کہ میں جب ان لافانی دنوں کو یاد کرتا ہوں تو ان میں کھو جاتا ہوں۔ میرے دماغ میں ایک شاندار فلم گذرتی ہے۔ حجاج کرام کی اس جگہ آمد ورفت کے مناظر آنکھوں کےسامنے گھوم جاتے ہیں۔ وہاں پر کھانا پکانا، عازمین حج سے ملاقاتیں ایک جشن کا سماں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ الاحسا کا علاقہ تاریخ وثقافت کا مرکز رہا ہے۔

محقق الفریدہ نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے "عین نجم" کے بارے میں لکھا ہے ان میں سے بہت سے لوگوں نے تاریخی طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ الاحساء کے لوگ تعاون، محبت اور سخاوت کے جذبے کے لیے مشہور تھے۔یہ نعمتوں سے مالا مال علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ حجاج کرام کی آمدو رفت کے ان کے لیے کھانے بنانے اور ان کے آرام و راحت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں