حج 1443

منیٰ میں سفید خیموں کا شہر آباد، فرزندان توحید کی قافلوں کی شکل میں آمد جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا بھر سے عازمین حج کی مکہ معظمہ آمد کے بعد منیٰ میں سفید خیموں کا شہر آباد ہو گیا ہے۔ عازمین حج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سفید خیموں کا شہر پانچ روز کے لیے شہد کی مکھیوں کے چھتے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

عازمین حج آٹھ ذی الحج کو یوم ترویہ کی تیاری کے لیے منیٰ میں جمع ہو رہے ہیں۔

منیٰ میں سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹرز، حج مشنز اور طواف کمپنیوں کے درمیان حجاج کرام کے کیمپوں کی تیاری اور ترویہ کے دن اور ایام تشریق کے موقع پر ان کے استقبال کی تیاری کے سلسلے میں مقابلے کی کیفیت ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی کیمرہ ٹیم نے منیٰ میں لاکھوں فرزندان توحید کے لیے بسائے گئے عارضی شہر کا طائرانہ جائزہ لیا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اور نجی اداروں نے اللہ کے مہمانوں کے آرام وراحت کے لیے ہر ممکن اقدامات اور تمام توانائیاں صرف کرتے ہوئے حجاج کرام کی خدمت جاری رکھی ہوئی ہے۔

اندرون ملک کے عازمین کی خدمت کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کی رابطہ کونسل نے بتایا کہ مقامی عازمین کو خدمات فراہم کرنے کے لیے 184 کمپنیاں تیار ہیں۔ یہ کمپنیاں ایک لاکھ پچاس ہزار مقامی عازمین حج کی خدمت کر رہی ہیں۔

منی کا منظر
منی کا منظر

کونسل نے کہا کہ اس سال منیٰ میں سعودی عرب کے اندر سے حصہ لینے والے حجاج کے لیے قیام وطعام کی سہولیات پہلے سے مختلف ہیں۔ منیٰ میں عازمین حج کے لیے جدید ترین خیمے تیار کیے گئے ہیں۔ گرمی کے موسم کے اعتبار سے ان خیموں میں ٹھنڈک کا بھرپور انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خیمے فائر پروف ہیں تاہم ان کی تعداد کل خیمہ بستی میں صرف 20 فی صد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں