خواتین رضا کار عازمین حج کی خدمت میں مردوں پر بازی لے گئیں

حجاج کی خدمت کے لیےسرگرم کل رضاکاروں میں خواتین کا تناسب 59 فی صد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں عازمین حج کی خدمت پر کئی اداروں کےہزاروں رضار کار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ حجاج کرام کی خدمت گذاری میں مصروف رضاکاروں میں مردوں کی نسبت خواتین کی شرح زیادہ ہے۔

سعودی عرب کے معاصر عزیز روزنامہ ’مکہ‘ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال عازمین حج کے لیے سرگرم رضا کاروں میں 59 فی صد خواتین اور 41 فی صد مرد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مملکت میں خواتین ہرشعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ صنف نازک حج جیسے اہم اور مصروف ترین عمل میں بھی بہ طور رضا کار کئی شعبوں میں موجود ہیں۔

سعودی خواتین حکومت کے ساتھ مل کراللہ کے مہمانوں کو مناسک کی ادائی میں سہولت اور مدد فراہم کرتی ہیں۔ خواتین رضا کار کی زیادہ تعداد عازمین حج کو سروسز فراہم کرنے والے چھ پروگرامات سے ہے۔

ہزاروں سعودی عازمین حج کی مفت خدمت کرنے کے خواہشمند ہیں اور وہ ہر سال مملکت بھر سے مقدس مقامات پر آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو اپنے علم اور تجربے سے حجاج کرام کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

سعودی عرب میں رضاکارانہ خدمات کا آغاز 1965 سے ہوا جب جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے پہلی بار تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ علاقوں میں شہری دفاع کےساتھ رضاکارانہ طور پر کام کریں۔

خواتین زیادہ تر حجاج کرام رابطوں کو فروغ دے کران کی مدد کرنے، رہ نمائی اور ہدایات پہنچانے، ترجمانی کرنے، صحت کے شعبے میں مدد دینے، ابلاغی میدان میں کام کرنے اور بزرگ عازمین کی خدمت میں پیش پیش ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں