"آخر کار ہم مکہ پہنچ گئے۔"عازمین حج کے مکہ پہنچنے پر تاثرات!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"بالآخر ہم مکہ پہنچ گئے ہیں۔"یہ وہ جملہ ہے جو آج کو حجاز مقدس پہنچنے والے ہر دوسرے حاجی کا ہے۔ اب تک لاکھوں مسلمان پوری دنیا سے فریضہ حج کی ادائی کے لیے مکہ معظمہ پہنچ چکے ہیں۔ بیت اللہ کی زیارت کا شرف ہرمسلمان کی اولین خواہش ہوتی ہے۔جب عازمین حج سے بات کی جاتی ہے تو ان میں سے اکثر کا جواب اس جملے سے ہوتا ہے’آخر کار بیت اللہ کے دیدار کا شرف ہمیں مل گیا اور ہم پہنچ آئے ہیں‘۔ حج کے لیے آنے والے مسلمانوں کے چہروں پر خوشی اور طمانیت کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان میں سے کچھ بزرگ مسلمان بھی ہیں جو فریضہ حج کی ادائی کی خواہش لے کر پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جوانی میں یا زندگی کےپہلے حصے میں وہ اسلام کے اس پانچویں رکن کی ادائی نہیں کر سکے ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی ٹٰیم نے بیرون ملک سے آئے ہوئے متعدد عازمین حج سے ملاقات کی۔ جب وہ مکہ المکرمہ میں تھےتو ان کی حیرت اور خوشی کی انتہا نہیں تھی۔ ہندوستانی حاجی عبدالرشید طالب نے کہا: "حج کی تیاری میں مجھے بہت محنت کرنا پڑی۔ نہ چلچلاتی دھوپ دیکھی اور نہ جما دینے والی سردی کی پرواہ کی۔ میں اپنے کھیتوں میں کھیتی باڑی کرتا رہا اور عمر بھر ایک ایک روپیہ جمع کرنے میں لگا دی۔ خواہش یہ تھی کہ زندگی میں ایک بار اللہ کے گھر کے دیدار کاشرف نصیب ہوجائے۔ میں اللہ رحمان کی پکار پرلبیک کہتے ہوئے آخر کار مکہ معظمہ پہنچ گیا ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں اپنے گاؤں میں اپنے زرعی کھیتوں کے درمیان میں نے اپنا سامان باندھا۔ اپنے خاندان کو الوداع کہا اور پاک وطن کی طرف روانہ ہوا۔ 55 سال سےمیں مقدس مقامات کی زیارت اور حج کا خواب دیکھتا رہا ہوں۔

صبر کے 43 سال

سوڈان سے تعلق رکھنے والے حجاج یاسر بشری کا کہنا ہے کہ 43 سال سے زائد صبر کے بعد اس سال مجھے اسلام کے پانچویں ستون کی ادائیگی کا موقع ملا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "سوڈان سے مکہ المکرمہ تک میرا سفر بہت سے انسانی حالات سے گذرا جس میں ہم نے خوشیاں، خواہشات، امید اور صبر جیسی کیفیات کا مشاہدہ کیا اور آخر کار میں مکہ مکرمہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

خواب سچ ہو گیا

فریضہ حج کی ادائی کے لیے مصر سےآئے حاجی محمد عبدالحمید نے کہا کہ میری عمر 67 سال ہے اور زندگی کے اس طویل سفر کے بعد میرا خواب پورا ہوا۔ میں حجاج کرام کے قافلوں کے ساتھ ملاقات کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے حضورہاتھ اٹھا کر دعا کرتا کہ اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا کرے۔ مجھے اپنے عظیم گھر کی زیارت نصیب کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دس سال کے دوران میں نے اپنا وقت اور کوشش "کارپینٹری" کے لیے وقف کر دی۔ یہ کام میں اس لیے کررہا تھا تاکہ میں حج کے مناسک کی ادائیگی کے لیے رقم جمع کرسکوں۔

یقین نہیں آرہا تھا کہ میں مکہ میں ہوں

یمن سے آنے والے اور پہلی بار حج کرنے والے حجاج عبدالباقی الشریف کہتے ہیں کہ مُجھے خود یقین نہیں آیا کہ میں مکہ مکرمہ میں ہوں اور یہ کہ میں لوگوں کے ہجوم میں سے ہوں۔ حجاج کرام کے ساتھ ہوں۔ میرے اور اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی کے درمیان مالی حالات حائل تھے اور میں 35 سال سے زیادہ عرصہ تک حج کے اخراجات پورے ہونے کا انتظار کر رہا ہوں۔ اب میں اس فریضے کی ادائی کے قابل ہوگیا تھا اور آخر کار میں نے حج کے لیے رخت سفرباندھا اور میں اب اپنی منزل پر پہنچ گیا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں