’خواہش تھی کہ تندرست ہوکرحج کروں گا مگراللہ نے پہلے ہی بلا لیا‘

حج پر آئے معذور روسی نوجوان کی ہمت آموز کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت اس سال دنیا بھر سے تین سو معذور مسلمانوں کوسرکاری سطح پر حج کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ ان خوش قسمت عازمین حج میں روس سے تعلق رکھنے والے ‘سبیر‘ بھی شامل ہیں۔

سبیر اپنے والدین کے ہمراہ سعودی عرب پہنچنے کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کرچکے ہیں۔

وہیل چیئرپر لیٹے سبیرکا کہنا ہے کہ میری خواہش تھی کہ اللہ مجھے شفا دے اور میں چل کراللہ کے گھر کا دیدار کروں مگر اللہ نے مجھے معذوری میں بھی اپنے گھر کی زیارت کی توفیق دی؛۔

21 سالہ روسی حاجی سبیر کو اس سال زندگی میں پہلی بار اپنے والدین کے ہمراہ حج پر گئے ہیں۔ ان کے عزم کے سامنے ان کی معذوری جواب دے گئی۔

حاجی "سبیر" نے سعودی الاخباریہ چینل پر نشر ایک رپورٹ کے ذریعے کہا کہ ان کی معذوری پیدائش سے ہی مکمل طور پر فالج کا شکار ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ میں مکہ مکرمہ گیا ہوں۔ خدا پرمجھے بہت بھروسہ ہے۔ ایک دن میں خود اپنے پیروں پر چلوں گا۔

سبیر نے حج کی سعادت حاصل کرنے پر بے حد مسرت کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ سفر آسان کر دیا۔ انہوں نے خادم حرمین شریفین کی طرف سے حج کے اخراجات اٹھانے اور سعودی عوام کی طرف سے مہمان نوازی پر بے حد شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سچ ہے کہ میں وہیل چیئر پر ہوں، لیکن حج کی سہولت کے لیے سب کچھ تیار ہے۔

سبیر کے والد نے کہاکہ مُجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے، جس نے ہمیں مکہ آنے اور حج کرنے پر اصرار کیا۔ ہم مقدس جذبات کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ماں کی شفقت باپ سے زیادہ ہوتی ہے جب ہم اپنے بیٹے کو دیکھتے ہیں اور ہم صرف دعا ہی کر سکتے ہیں۔ اللہ ہمارے بیٹے کو شفا عطا کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں