حج مذہبی فریضہ،اس میں فرقہ وارانہ اور تعصبانہ نعرے بازی کی اجازت نہیں:پراسیکیوشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر سعود المعجب نے مقدس مقامات اور ان میں آنے والے اللہ کے مہمانوں کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حج ایک فریضہ ہے۔ اس کی ادائی کے دوران کسی قسم کے فرقہ وارانہ یا تعصبانہ نعرے بازے کا کوئی جواز نہیں۔

سعودی المعجب نے سیکیورٹی حکام کو ہدایت کی کہ وہ حج کے مناسک کے دوران تخریب کار عناصر پر گہری نظر رکھیں اور عازمین حج کو پرامن طریقے اور سکون کے ساتھ مناسک کی ادائی کو یقینی بنائیں۔ حج کے دوران کسی قسم کی گڑ بڑ پھیلانے والےعناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے حج پراسیکیوشن آفس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ20 خصوصی پبلک پراسیکیوشن دفتر قائم کیےگئے ہیں جس کے بعد مشاعر میں ان کی تعداد ستائیس ہوگئی ہے۔ ان دفاتر کوپراسیکیوٹر کے اختیارات دیےگئے ہیں۔ دفاتر پارلیمانی دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تفتیش، عوامی استغاثہ، فیصلوں کی اپیلیں، جیلوں اور حراستی مقامات کی نگرانی اور معائنہ۔ تکنیکی عمل جیسے اقدامات کرسکتے ہیں۔

المعجب نے کہا کہ عازمین حج کی سلامتی اوران کی دیکھ بھال مملکت کی پہلی ترجیح ہے۔ شاہ عبدالعزیز کے ہاتھوں سعودی مملکت کے قیام کے بعد سے اب تک ہر حکومت نے حجاج کرام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حرمین کی سرزمین ایک مقدس مقام ہے جس پرحملے یا ظلم وزیادتی یا خون خرابہ حرام ہے۔ یہاں تک کہ درخت کاٹنے اور پرندوں کو مارنے کی بھی اجازت نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں