عازمین حج ترویہ کا دن گزارنے کے لیے منیٰ کی جانب روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا بھر سے فریضہ حج کی ادائی کے لیے آئے لاکھوں فرزندان توحید آج صبح آٹھ ذی الحج 1443ھ کی شبِ منیٰ میں ترویہ کا دن گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی امید رکھتے ہوئے پہنچنا شروع ہو گئے۔ منی میں عازمین حج رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت زندہ کرتے ہوئے بارگاہ خداوندی میں دعائیں اور مناجات کریں گے۔

اسلامی شریعت میں احرام باندھے ہوئے اکیلے گروپ کی شکل میکں حجاج کا ترویہ کے دن منیٰ میں آنا اور وہاں عرفات کے مقام پر کھڑے ہونے کے لیے رات بھر جانا مستحب سنت ہے۔

نوں ذی الحج کے طلوع آفتاب تک عازمین حج وہاں رہیں گے۔اس کے بعد وہ وقوف عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ پھرعرفات سے "نفرہ" کے بعد اور مزدلفہ میں کچھ دن گزاریں گے۔ وہاں وے 10-11-12-13 کو قربانی کریں گے اور تین جمرات العقبہ، جمرہ اولیٰ، جمرہ صغریٰ اور جمرہ کبرا کے مناسک ادا کریں گے۔h

منیٰ کا مقام تاریخی اور مذہبی حیثیت کا حامل ہے، جس کی بنا پر خدا کے پیغمبر ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے رمی جمرات کیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ ذبح کیا۔

منیٰ مکہ معظمہ اور مزدلفہ کے درمیان واقع ہے۔ منیٰ سے شمال مشرق میں مسجد حرام واقع ہے جو منیٰ سے سات کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ منیٰ حرم کی حدود میں ہے۔ اس کے شمال اور جنوب میں پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ یہاں پر صرف حج کے ایام میں قیام کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں