حج میں وبائی امراض کا جلد پتہ لگانے کے لیے جدید نظام موجود: محکمہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو سعودی عرب کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ مملکت کے پاس ایک جدید نظام ہے جسے حج کے موسم میں وبائی امراض کا جلد پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

وزارت صحت نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عازمین کی صحت کی حالت تسلی بخش ہے، اور بیماری کا کوئی کیس درج نہیں ہوا ہے۔

سعودی عرب کے مرکزی حج کمیشن کے سربراہ مکہ المکرمہ ریجن کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے جمعرات کوکہا ہے کہ’یوم ترویہ‘ کے موقع پر حجاج کرام میں کوئی بیماری یا کیس درج نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال 1443ھ حج کے موقعے پر صحت کے غیرمعمولی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ترویہ کے روز کسی حاجی کے بیمار ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

خالد الفیصل نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ "پچھلے دو سالوں کے دوران کرونا وبائی امراض کے باوجود مملکت سعودی عرب نے حج کو نہیں روکا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ رضاکاروں کے پاس حجاج کی خدمت میں اعلیٰ سطح کا تجربہ اور کارکردگی ہے۔ہم حاجیوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہر جگہ اور وقت میں ان کی خدمت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ موجودہ منصوبوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کافی حد تک بہتری آئی ہے اور حجاج کو ماضی کی نسبت زیادہ طبی سہولیات دی گئی ہیں۔

سعودی وزارت صحت نے بنیادی صحت کی دیکھ بھال کےدرجنوں مراکز قائم کے ہیں اور انہیں جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔ حج سیزن کے موقعے پر مشاعر مقدسہ میں مختلف فاصلے پر 93 مراکز صحت قائم کئے گئے ہیں۔جن میں منیٰ، جمرات، عرفات اور مزدلفہ کے تمام مقدس مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔ حجاج کرام ان تک جلدی اور براہ راست پہنچ سکتے ہیں۔ ان طبی مراکز میں تمام ضروری طبی سامان ادویات اور لیبارٹریز موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں