حج سیزن

’یا اللہ ہمیں معاف فرما‘ میدان عرفات کی فضاء حجاج کی رقت آمیز دعاؤں سے گونج اٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دنیا بھر سے تقریباً دس لاکھ فرزندان توحید میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کر رہے ہیں۔ حجاج کرام کی بڑی تعداد جبل رحمت پر جمع ہو کر گڑ گڑا کر اللہ سے دعائیں مانگ رہے ہیں۔

سفید احرام میں ملبوس حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے مسلمان مرد وخواتین کی زبانوں پر "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك" کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ تلبیہ کے ساتھ ساتھ حجاج کرام جبل رحمت پر رو رو کر بخشش، مغفرت، رحمت اور برکت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔

جبل رحمت جسے ’جبل عرفات‘ کہا جاتا ہے مکہ مکرمہ کے مشہور مذہبی اور تاریخی پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ حجاج کرام صبح کے وقت جبل رحمت کی طرف عازم سفر ہوتے ہیں اور یہاں پر وقفہ کبریٰ کرتے، دعائیں کرتے ہیں۔

میدان عرفات کے بیچوں بیچ جبل رحمت ہے۔ یہ میدان عرفات کے شمال مشرق میں سرخ رنگ کی ایک مخروطی پہاڑی ہے جس کی اونچائی 200 فٹ سے کچھ کم ہے اور عرفات کے اصل پہاڑی سلسلے سے ذرا الگ سی ہوگئی ہے۔

عام لوگ پہاڑ کو جبل رحمت کو "جبل القرین" بھی کہتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ سینگ کی طرح اس کی چوٹی کی شکل ہے۔ اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں اسے "الال پہاڑ" کا نام بھی دیا گیا ہے۔

’جبل رحمت‘ اپنے اردگرد کے پہاڑوں کی نسبت ایک چھوٹا پہاڑ ہے۔ اس کی اونچائی 30 میٹر سے زیادہ نہیں ہے اور چوٹی پر چار میٹر کی اونچائی کے ساتھ اندازہ لگانے کے لیے ایک تازہ ترین اعداد وشمار موجود ہیں۔

میدان عرفات شمال سے جنوب تک 12 کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک پانچ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ شمالی جانب سے عرفات نامی پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔

یہ پہاڑ عرفات کے شمال میں اور حرم کی حدود سے باہر باہر واقع ہے۔ اس کی چوٹی پر چڑھنا مشکل ہے۔ اس لیے میں نے چوٹی تک پہنچنے کے لیے زینے بنائے گئے ہیں۔

یہاں پر عرفہ کے روز حجاج کرام وقوف کے لیے پہنچتے ہیں۔ وقوف عرفہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں وقوف کیا ہے۔ پورے کا پورا عرفہ وقوف ہے"۔

حجۃ الوداع کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی اونٹنی القصویٰ پر سوار ہو کر وقوف عرفات تک پہنچے۔ آپ نے وہیں قیام فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی "اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ،ورضيت لكم الإسلام دينا" ’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں