حج سیزن

حجاج کرام رمی جمرات کے لیے مُزدلفہ میں کنکریاں جمع کرتے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حجاج کرام نوں ذی الحج کی شام کو عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مزدلفہ میں انہوں نے رمی جمرات کے لیے کنکریاں اکھٹی کیں۔ اس سے قبل انہوں نے پورا دن رکن اعظم کی ادائی کے لیے عرفات میں قیام کے ساتھ گزارا۔

مزدلفہ میں انہوں نے کنکریاں جمع کیں تاکہ عقبہ اول میں جمرات کے لیے ان کے پاس کنکریاں موجود ہوں۔ عید کے پہلے دن رمی جمرات کے پہلے مرحلے کے بعد حجاج کرام ایام تشریق میں رمی کے مناسک مکمل کریں گے۔

ہر حاجی تین جمرات [شیطانوں] میں سے ہر ایک کو چنے کے دانے کے برابر سات کنکریاں مارتا ہے۔ یہ عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اس جگہ پر اللہ کی یاد کو زندہ کرنے کے لیے، پتھر پھینک کر سنت ابراہیمی کی بھی یاد تازہ کی جاتی ہے۔

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کنکریاں پھینکتے تھے۔ حجاج کرام کنکریاں پھینکتے یہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے اسی طرح کنکریاں ماری تھیں اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی سکھایا تھا۔

مزدلفہ کا پورا مقدس مقام ایک پڑاؤ ہے، سوائے وادی محسر کے جو کہ مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں حجاج کرام تیزی سے گذر جاتے ہیں۔ اس کی سرحد مغرب میں منیٰ کے بعد واقع ہے جو وادی محسر کا مشرقی کنارہ ہے۔

یہ ایک چھوٹی وادی ہے جو منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان سے گزرتی ہے جس سے حاجی منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان سڑک پر چلتے ہوئے گذر جاتے ہیں۔ یہ وادی منیٰ سے الگ ہے اور مشرق کی طرف اس کی سرحد عرفات کے قریب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں