حج سیزن

’’امسال حج شرائط وقیود کے بغیر، کرونا وَبا سے قبل کا کوٹا بحال‘‘

ضیوف الرحمٰن کے لیے مزید سہولتوں کا اعلان، عمرہ زائر کی بیمہ فیس 88 اور حاجی کی 29 ریال ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے وزیر حج وعمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے دنیا بھر کےعازمینِ حج کو خوش خبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال حجاج کرام کی تعداد کرونا وائرس کی وَبا سے پہلے کی تعداد کے مطابق ہو گی اور وَبا سے پہلے کا حج کوٹا بحال کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ نے کہا ہے کہ 1444 ہجری کے حج سیزن کے عازمین پر کوئی شرط یا عمر کی پابندی یا کوئی اور قدغن عاید نہیں ہو گی۔ وہ حج وعمرہ خدمات کانفرنس اور نمائش ’’ایکسپو حج‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے انشورنس فیس میں کمی کا بھی اعلان کیا ہے اور عمرہ زائر کی جامع انسورنش فیس 88 ریال اور حاجی کی انشورنس فیس 29 ریال کر دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حرم مکی شریف کی توسیع میں دو سو ارب ریال سے زیادہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر صرف کیے گئے ہیں۔ یہ حرم کی تاریخ میں سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ تھا۔ اس کے علاوہ حرم نبوی شریف کی توسیع، مشاعر مقدسہ کی ترقی پر کام جاری ہے۔ اسی طرح انھوں نے مسجد قبا کی ترقی کے سب سے بڑے منصوبے پر بھی کام کا ذکر کیا جہاں بہترین بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولیات اور انفراسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔رحمٰن کے مہمانوں (ضیوف الرحمٰں)کی خدمت کے لیے مملکت کے سب سے بڑے ہوائی اڈے کا قیام بھی شامل ہے۔ یہ جدہ کا شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے، جس 40 ارب ریال سے زیادہ لاگت کا تخمینہ ہے۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو ملانے والی حرمین ٹرین کی تعمیر پر 64 ارب ریال سے زیادہ کی لاگت آئی ہے۔ اس تیز رفتار ٹرین نے دونوں شہروں کے درمیان سفر کے دورانیے کو 6 گھنٹے سے کم کر کے دو گھنٹے تک کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے رحمٰن کے مہمانوں کو مہیا کی جانے والی خدمات کو مسلسل ترقی دینے اور سفر کے دوران میں ان کے تجربے کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا اور اسی وجہ سے وزارت نے عمرہ کرنے والوں کے لیے جامع انشورنس پریمیم کو 235 سے گھٹا کر 88ریال تک کر دیا ہے۔ بیمے میں کمی کی یہ شرح 63 فی صد ہے، ساتھ ہی حاجیوں کے لیے انشورنس فیس کو 109 ریال سے کم کر کے 29 کر دیا گیا ہے۔ یعنی اس میں 73 فی صد کمی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات مملکت کی جانب سے خدمات کے معیار کو بہتر بنانے، ان تک رسائی کو آسان بنانے اور حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کی مکہ اور مدینہ منورہ میں آمد کے وقت سہولت مہیا کرنے کی خواہش کا مظہر ہیں۔

ڈاکٹر الربیعہ نے وضاحت کی کہ اس وقت دنیا سے شروع ہونے والے تمام حج مشن مملکت کے اندر کسی بھی لائسنس یافتہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں، جیسا کہ دسیوں سال پہلے، دنیا بھر میں ہر مشن کے پاس محدود تعداد میں مخصوص کمپنیاں تھیں۔ ان کا دوسروں کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا جا سکتا تھا، انھوں نے ایک کمپنی کے بجائے مشن کے لیے متعدد کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی اجازت دے کر مسابقت کو بڑھانے میں وزارت کے کردار کو اجاگر کیا۔

وزیر حج وعمرہ نے عمر کی پابندی کے بغیر، کرونا کے وبائی مرض سے پہلے کے حجاج کرام کی تعداد کے مساوی تعداد کی بحالی کی خوش خبری سنائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علہیم اجمعین کی سیرت کی دستاویز کے لیے 20 سے زیادہ نمائشوں اور 100 سے زائد تاریخی مقامات کی تیاری پر کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حجاج اور معتمرین کے سفر کو تقویت مل سکے۔

توفیق الربیعہ نے ان متعدد سہولیات کی طرف اشارہ کیا جو سعودی حکومت کی جانب سے زائرین عمرہ کو مہیّا کی گئی تھیں۔عمرہ ویزے کے حاملین اب مملکت بھرمیں گھوم پھرسکتے ہیں۔نیز دیگر تمام ویزوں کے حامل افراد کو عمرہ کرنے کی اجازت ہے۔اس کے علاوہ عمرہ کے ویزے کی مدت میں بھی 30 دن سے 90 دن تک توسیع کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نُسک پلیٹ فارم کا آغاز کردیا گیاہے اور الیکٹرانک طور پر24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ویزا کے اجراء کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اس حج کانفرنس اور نمائش کا مقصد رحمٰن کے مہمانوں کے سفرکوآسان بنانے کے لیے مملکت کے اندر اور باہر تمام متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں