حج سیزن

’’ طمیہ‘‘ : ناہموار علاقوں میں حجاج کی خدمت کے لیے تیار کی گئی ایمبولینس

طمیہ ریسکیو اور ایمبولینس مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ایک ایمفیبیئس ایمبولینس گاڑی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہلال احمر اتھارٹی نے اس سال حج کے موسم میں مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی گاڑی لانچ کی ہے یہ ایک ایمفیبیئس ایمبولینس ہے جو ایسے ناہموار علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک روایتی ایمبولینسوں کے ذریعے پہنچنا مشکل ہے۔ ان میں کیچڑ، پانی والے مقامات یا پہاڑی علاقے شامل ہیں۔ یہ خصوصی ایمبولینس میدانی مقدس مقامات پر ریسکیو اور ایمبولینس مشن کو انجام دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کے ٹائروں کو کم اور زیادہ ہوا کے دباؤ کے ساتھ کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے۔ اس ایمبولینس سے ہر قسم کی خطوں کی رکاوٹوں اور مشکل موسم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

Advertisement

ہلال احمر اتھارٹی نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ ’’طمیہ‘‘ریسکیو اور ایمبولینس مشن کو انجام دینے کے لیے بنائی گئی ایک ایمبیبیئس ایمبولینس گاڑی ہے۔ یہ زخمیوں کو نکالنے کے لیے ابتدائی طبی امداد کے کاموں کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ کیچڑ، پانی یا انتہائی ناہموار پہاڑی علاقوں میں روایتی ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے پہنچنا مشکل ہوتا ہے لیکن یہ جدید ایمبولینس ان علاقوں سے گزر سکتی ہے۔ گاڑی میں دو مریضوں کو لے جانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ گاڑی میں ڈرائیور اور 6 دیگر افراد سوار ہوسکتے ہیں۔

یہ گاڑی 19 گھنٹے تک مسلسل کام کرسکتی اور 65 گھنٹے سے زیادہ کھڑی رہ سکتی ہے۔ گاڑی میں جاسوسی انتباہی لائٹس بھی موجود ہیں جن کے ذریعہ ڈرائیور تاریکی میں بھی دیکھ سکتا اور گاڑی کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ گاڑی میں اعلی معیار کے کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ "طمیہ" کا نام ایک مشہور پہاڑ سے منسوب ہے جو مدینہ اور القصیم کے علاقوں کے درمیان واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں