حج 1444

حج کا موسم: جبل رحمت کے پرنور مناظر، وقوف عرفات کی فضیلت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سفید احرام میں حجاج کرام کے قافلے، تلبیہ، سلام، تسبیحات ، دعائیں ، صدائیں اور جواب کی گھڑی کا انتظار ، یہ وہ مناظر ہیں جو آج میدان عرفات میں چار سو پھیلے ہیں۔

" لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك" ۔۔ علاقے کی فضا تلبیہ کی آواز سے گونج رہی ہے۔

یہ صدائیں شام تک جبل عرفات میں سنائی دیں گی اور غروب آفتاب کے بعد دعائیں اور مناجات کرتے حجاج کرام مزدلفہ کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں ، جہاں وہ رات بھر قیام کریں گے۔

جبل رحمت یا جبل عرفات مکہ مکرمہ کے مشہور مذہبی اور تاریخی پہاڑوں میں سے ہے۔یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس پر عرفات کے دن حجاج وقوف کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے اوپر ایک چٹان پر بیٹھے تھے، اور فرمایا: "میں نے یہاں وقوف کیا اور پورا عرفہ وقوف کا مقام ہے۔"

اس پہاڑ کو جبل رحمت کہا جاتا ہے۔اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں اسے جبل إلال اور النابت بھی کہا جاتا ہے۔شاید یہ آخری نام ان چٹانوں کو دیا گیا تھا جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف کیا تھا۔

جبل رحمت اپنے اردگرد کے پہاڑع سلسلے کی نسبت چھوٹا ہے، اس کی اونچائی 30 میٹر سے زیادہ نہیں ہے، اور اس کی چوٹی پر 4 میٹر اونچائی والا مینار قائم ہے۔

حجۃ الوداع کی حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی اونٹنی القصواء پر سوار ہوئے اور وقوف کے مقام پر پہنچے، جہاں قبلے کی سمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی چٹانوں پر بیٹھ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے تک وہاں رکے رہے، اور فرمایا: "میں نے یہاں وقوف کیا اور پورا عرفہ وقوف کا مقام ہے۔

ان پر آیت قرانی نازل ہوئی: "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا".

"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر چن لیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں