حج 1444

خطبہ حج کے دوران امام صاحب کا مسلمانوں کے اتحاد پر زور

’’دین میں تمام تعلیمات ہیں جو مسلمانوں کو جوڑ کر رکھتی ہیں، شریعت میں حکم ہے جھگڑا کرنے والوں کو سمجھایا جائے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امام کعبہ ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کا حکم ہے تمام مسلمان متحد ہو کر رہیں اور تفرقے میں نہ پڑیں

میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد بن سعید نے خطبہ حج دیا جسے لاکھوں عازمین سمیت دنیا بھر میں موجود مسلمانوں نے ٹی وی پر براہ راست سنا۔

خطبہ حج کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی متعدد زبانوں میں براہ راست نشر کیا گیا۔ خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد کا کہنا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں، اللہ تعالی نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا، انسانوں کو تقوی اختیار کرنا چاہیے، کبھی بھی کسی معاملے پر کسی دوسرے معبود کو نہ پکارا جائے، مصیبت اور پریشانی میں اللہ تعالی سے رجوع کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالی نے لوگوں کے نیک اعمالوں کی وجہ سے ان کو ہدایت عطا کی، حاکمیت اور حقیقی حکمرانی اللہ تعالی کی ذات کی ہے، جو انسان اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا، انسان اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرے، ان باتوں سے انسان کو رکنا چاہیے جس میں اللہ کی ناراضگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے ایمان والو، دنیا اور آخرت کے معاملات میں اللہ کے حکم کو پورا کرو، اللہ تعالی نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا ہے، توحید کی دعوت تمام نبیوں میں مشترک رہی، اللہ کے سوا تمام چیزوں کو ختم ہوجانا ہے۔

شیخ یوسف بن محمد کا کہنا تھا کہ حکم دیا گیا ہے کہ نماز ادا کی جائے، زکوة دی جائے، غریبوں کی مدد کی جائے، حج بھی ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل نہیں، جس طرح اس مہینے کی حرمت ہے اسی طرح جان مال کی حرمت ہے، دن رات کا آنا جانا اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اللہ کی حدود کی حفاظت کا مطلب ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، ہر نبی نے یہ ہی دعوت دی کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، نماز ، روزہ ، زکو اور حج کا حکم اللہ نے دیا ہے۔

خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ یوسف بن محمد کا کہنا تھا اللہ عظیم ہے اور حکمت والا ہے، اللہ رب العزت نے تفرقے سے منع فرمایا، قرآن میں اتحاد کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، اتحاد میں ہی دین و دنیا کے معاملات میں فلاح ہے، مسلمانوں کا آپس میں مل کر رہنا ضروری ہے، اللہ نے فرمایا جس نے کتاب میں اختلاف کیا وہ ہدایت سے دور ہیں، مسلمانوں کو آپس میں جڑ کر رہنا ضروری ہے، ہمیں حکم دیا گیا اختلاف ہو جائے تو قرآن اور سنت کی طرف جائیں، قرآن کریم میں مسلمانوں کے لیے جڑکر رہنے کا حکم ہے۔

امام کعبہ کا کہنا تھا کہ اچھے اخلاق سے دوسروں کے دل میں جگہ پیدا ہو جاتی ہے، مسلمانوں کے لیے ضروری ہے اچھے اخلاق رکھیں، شریعت مطہرہ کا مقصد ہے مسلمان آپس میں جڑ جائیں، ارشاد ہوتا ہے شرک نہ کرنا، والدین سے حسن سلوک کرو، گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرو، تقویٰ میں تعاون کرو، شیطان چاہتا ہے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو، دین میں تمام تعلیمات ہیں جو مسلمانوں کو جوڑ کر رکھتی ہیں، شریعت میں حکم ہے جھگڑا کرنے والوں کو سمجھایا جائے۔

خطبہ حج میں ڈاکٹر یوسف کا مزید کہنا تھا کہ حرام کو حرام اور حلال کو حلال جانو، مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد کرتا ہے، کتاب میں اختلاف کرنے والے بھٹک گئے، اتفاق پیدا کرنے والے ہی سیدھے راستے پر ہیں، یاد رکھو، قومیں اتفاق سے مضبوط ہوتی ہیں، اختلاف کی صورت میں اللہ کے حکم کو سامنے لانے، ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و محبت قرآن کا حکم ہے، ارشاد باری تعالی ہے کہ اختلاف کو چھوڑ دو، اللہ کی تعبیداری کرو۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو معاف کرنے والے ہی مسلمان ہوتے ہیں، شریعت آئی ہی لوگوں میں محبت پیدا کرنے کے لیے ہے، بیوی، بچوں اور رشتہ داروں کے حقوق اسلام کی بنیاد ہے، اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ اچھے سے پیش آنا، تم میں سے کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش نہ آئے۔

خطبہ حج کے دوران امام کعبہ نے دعائیں بھی کیں، بولے یا اللہ حجاج کرام کی ضروریات پوری فرما دے، یا اللہ حجاج کرام کو خیریت سے گھروں تک پہنچا، ہمیں اچھے اخلاق اچھے اعمال کی توفیق عطا فر ما دے، بیشک تمام تعریفیں اللہ تعالی ہی کے لیے ہیں۔

مناسک حج کے دوران منی کی عارضی خیمہ بستی میں 8 ذو الحج کا پورا دن قیام کے دوران پانچوں وقت کی نمازیں ادا کر کے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کیلئے 9 ذوالحج کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد میدان عرفات میں جمع ہوئے۔

میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا ہونے کے بعد عازمین نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج سننے کے بعد ظہر وعصر کی نمازیں یکجا کر کے ایک ساتھ ادا کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں