حج 1444

لاکھوں عازمین حج کی میدان عرفات میں گڑگڑا کر بخشش اور رحمت کے لیے دعا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حج کے رکن اعظم ’وقوف عرفات‘ کی ادائی کے لیے 25 لاکھ کے قریب فرزندان اسلام میدان عرفات میں جمع ہو گئے ہیں جہاں وہ مسجد نمرہ میں عبادت کے ساتھ ساتھ عرفات کے میدان میں خطبہ حج بھی سنیں گے۔

لاکھوں عازمین حج نے پیر کو پیدل یا بسوں میں سوار ہو کر مکہ مکرمہ کے قریب منیٰ میں بڑی خیمہ بستی کے شہر میں سالانہ حج کی ادائی کے لیے جمع ہوئے ہیں جہاں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حج حاضری کے ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔

خانہ کعبہ کے طواف کی ادائی کے بعد نمازی شدید اور دم گھٹنے والی گرمی میں تقریباً سات کلومیٹر دور منیٰ کی جانب روانہ ہوئے۔

احرام اور سینڈل و چپل پہنے حجاج میں سے اکثر چھتری لیے ہوئے تھے جنہوں نے پیدل یا سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ سیکڑوں ایئر کنڈیشنڈ بسوں کے قافلے میں سفر کیا۔

انہوں نے منگل یعنی 8ذوالحج کو پورا دن منیٰ میں سفید خیموں میں گزارا جو ہر سال دنیا کے سب سے بڑی خیمہ بستی کی میزبانی کرتا ہے، وہاں رات نماز کی ادائیگی کے بعد حجاج نے میدان عرفات کی راہ لی اور جبل رحمت پر قیام کیا جہاں سے نبی اکرمﷺ نے اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔

یہ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد تین سال میں پہلا موقع ہے کہ حج میں لوگ بلا روک ٹوک بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔

اس سال 25 لاکھ سے زائد افراد نے اسلام کے اس پانچویں رکن کی ادائی کے لیے حجاز مقدس کا سفر کیا ہے اور آج میدان عرفات میں خطبہ حج کی ادائی حجاج وقوف عرفات ادا کریں گے۔

اتوار کو منیٰ جانے والوں نے روانگی سے قبل حج کے اہم ترین ارکان میں سے ایک طواف القدوم انجام دیا البتہ پہلے سے مکہ مکرمہ آنے والوں کو یہ طواف ادا نہیں کرنا پڑتا۔

اتوار کی رات مکہ مکرمہ سے منیٰ تک پانچ کلومیٹر کا راستہ زائرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جو پیدل یا بسوں پر سفر کر رہے تھے۔

پیر کو حجاج کرام نے حضرت محمدﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پورا دن اور رات منیٰ میں گزاری جسے یوم ترویہ کہا جاتا ہے۔

آج منگل کو میدان عرفات میں حج کے رکن اعظم کی ادائی کے بعد سورج غروب ہوتے ہی زائرین عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع مزدلفہ کا رخ کریں گے اور رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔

اس کے بعد مزدلفہ سے کنکریاں جمع کرنے کے بعد وہ جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں اور حج کے آخری رکن کی ادائی کے لیے واپس خانہ کعبہ آ کر طواف کرتے ہیں۔

میدان عرفات کہاں واقع ہے؟

میدان عرفات کا رقبہ 33 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ مکہ سے مشرق کی جانب طائف کی راہ پر 21 کلو میٹر دور ایک بڑا وسیع و عریض میدان ہے جہاں دنیا کے گوشے گوشے سے آنے والے عازمین حج 9 ذی الحجہ کو جمع ہوتے ہیں۔

یہ میدان شمال سے جنوب تک 12 کلو میٹر اور مشرق سے مغرب تک پانچ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ شمالی جانب سے عرفات نامی پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔

میدان عرفات مکہ مکرمہ سے 22 کلومیٹر دور ہے جبکہ وادی منی سے اس کا فاصلہ 10 اور مزدلفہ سے 6 کلومیٹر ہے۔

میدان عرفات حرم مکی سے باہر واقع ہے اور مقاماتِ حج میں وہ واحد جگہ ہے جو حدود حرم سے خارج ہے۔

میدان عرفات چند برسوں قبل تک چٹیل میدان ہوتا تھا۔ کہیں کہیں گھاس نظر آ جاتی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے یہاں شجر کاری کی گئی ہے۔

جبلِ رحمت کی ترقی

میدان عرفات کے بیچوں بیچ جبلِ رحمہ ہے۔ یہ میدان عرفات کے شمال مشرق میں سرخ رنگ کی ایک مخروطی پہاڑی ہے جس کی اونچائی 200 فٹ سے کچھ کم ہے اور عرفات کے اصل پہاڑی سلسلے سے ذرا الگ سے ہے۔ اس پہاڑی کو بھی عرفہ کہتے ہیں لیکن اس کا زیادہ معروف نام جبلِ رحمہ ہے۔

جبلِ رحمہ کے مشرقی جانب پتھر کی چوڑی سیڑھیاں چوٹی تک گئی ہیں۔ جبلِ رحمہ کے اوپر ایک مینار بنا ہوا ہے۔

60 ویں سیڑھی پر ایک چبوترہ ہے۔ اس پر ایک منبر رکھا ہے۔ ماضی میں یوم عرفہ پر خطیب اسی منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں