حج سیزن

رمی جمرات کے بعد کنکریاں کہاں جاتی ہیں؟

ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے جمرات کی سہولت کی مختلف منزلوں میں تعمیر کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہر سال لاکھوں حجاج کرام منیٰ میں جمرات کے مقام پر سنت ابراہیمی علیہ السلام کو زندہ کرتے ہوئے رمی کی رسم ادا کرتے ہیں۔ اسے عام طور پر ’شیطان کو کنکریاں‘ مارنا کہا جاتا ہے۔

جمرات میں کئی منزلہ پل سے تین ستونوں پر لاکھوں کنکریاں برسائی جاتی ہیں۔ یہ پل 15 میٹر اونچا ہے اور اس سے منسلک ستونوں پر کنکریاں پھینکی جاتی ہیں۔ ہر حاجی ایک بار سات کنکریاں پھینکتا ہے۔

حجاج جمرات میں رمی سےفارغ ہونے کے بعد کنکریوں کو ایک مشین سے ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جمع شدہ بجری پر پانی کا چھڑکاؤ کیا تاکہ انہیں گرد اور دیگر آلائشوں سےپاک اور صاف کیا جا سکے۔ اس کے بعد انہیں گاڑی پر لاد کر ایک جگہ منتقل کردیا جاتا ہے اور وہاں سے حج سیزن کے اختتام پر ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔

رمی جمرات میں مصروف حجاج کرام
رمی جمرات میں مصروف حجاج کرام

یہ بات قابل ذکر ہے کہ منیٰ میں جمرات کی سہولت ایسی ہے کہ زائرین گروہ کی شکل میں پتھر پھینکتے ہیں۔ اس موقعے پر انہیں مزید آرام کے لیے وینٹیلیشن، ایئر کنڈیشن، دیکھ بھال اور سہولیات کی خدمات حاصل ہوتی ہیں۔ ہر سال جمرات میں برسائی جانے والی کنکریوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے کیونکہ کنکریاں حاجیوں کی تعداد کے مطابق ہوتی ہیں۔

سعودی عرب نے رمی جمرات سمیت حج کے تمام مناسک کی ادائی کے لیے لاکھوں زائرین کے لیے غیرمعمولی خدمات فراہم کی ہیں۔ جمرات کےمقام میں آمد ورفت کے لیےٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ جمروں پر سنگ باری کے لیے کئی منزلہ پل تعمیر کیا گیا ہے جہاں عازمین کسی رش کےبغیر شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم ادا کرسکتے ہیں۔

رمی جمرات
رمی جمرات

جمرات کی سہولت کے منصوبے کو اوور ہیڈ چھتریاں بھی فراہم کی گئیں، درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے دھند سے منسلک ایئر کنڈیشننگ پنکھے، ایسکلیٹرز اور سروس بلڈنگز تیار کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں