وادی منیٰ: 120 گھنٹے آباد رہنے والی خیمہ بستی ویران، حجاج کرام رخت سفر باندھ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

لبیک الھم لبیک کی پکار کے بعد حجاج کرام اب ’الوداع‘ الوداع‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اللہ کے عظیم گھر کے دیدار کے بعد اپنے ملکوں کو لوٹ رہےہیں۔

حجاج کرام کی آمد کے بعد حج کے موقعے پر چند گھنٹوں کے لیےمنیٰ کی وادی خیموں اور زائرین سے آباد ہوجاتی ہے۔ مگر منیٰ میں مناسک کی ادائی کے بعد یہ وادی اگلے ایک سال کے لیے ویران ہوجاتی ہے۔

منیٰ کے مقدس حرم پر آخری نظر ڈالنے کے ساتھ زائرین نے مقدس مقامات اور مکہ مکرمہ سے روانگی پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ خوشی ان کے حج کی تکمیل کا اعلان ہے۔

ہفتے کی صبح منیٰ میں طلوع آفتاب کے ساتھ حجاج کرام نے الوداع کہنا شروع کر دیا۔ حجاج کرام ایام تشریق میں تین دن یہاں پر قیام کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم ادا کرتے ہیں۔

منیٰ میں بسائی گئی بستی اب ویران ہوگئی ہے۔ سفید خیمے اکھاڑے جا رہے ہیں۔ اب سے چند گھنٹے پیشتر یہ خیمہ بستی لاکھوں حجاج کرام کے لیے روحانی مرکز تھی۔ حجاج کرام کوچ کرنے لگے ہیں اور رخت سفر باندھ چکے ہیں۔ منیٰ کی اس روحانی مرکز بستی میں حجاج کرام نے 120 گھنٹے قیام کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں