’’پاکستانیوں کو سڑک اور فیری کے ذریعے حج کی سفری سہولیات فراہمی پر غور ‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے وفاقی وزیر مذہبی امور سینیٹر طلحہ محمود کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت حجاج کرام کو سڑک اور فیری سروسز کے ذریعے حج ادائی کے لیے سفری سہولت فراہمی پر غور کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن کے ایک کنونشن کے موقع پر سینیٹر طلحہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان عازمین حج کو زیادہ بہتر سہولیات فراہم کرے گا اور 2024ء میں سالانہ حج کے اخراجات میں کمی کے لیے کوششیں کرے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس سال پہلی مرتبہ وزارتِ مذہبی امور نے پاکستانی حجاج کو 4.5 بلین روپے (16.6 ملین ڈالر) واپس کیے اور دو بلین (7.3 ملین ڈالر) کی ایک اور رقم واپس کرنے کا عمل جاری ہے۔

ریڈیو پاکستان کے نمائندہ نے وزیر مذہبی امور کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے سڑک اور فیری سروس کی تجویز حکومت کے زیرِ غور ہے۔

اس سال کا حج گذشتہ ماہ کے آخری ایام میں ادا کیا گیا جس کے لیے تقریباً دو ملین فرزندان توحید نے سعودی عرب میں فریضہ حج ادا کیا۔

سعودی عرب نے اس سال پاکستان کے لیے کووڈ-19 کی وبا سے پہلے والا 179,210 حجاج کا کوٹہ دوبارہ بحال کر دیا تھا اور ساتھ ہی جنوری میں 65 سال کی عمر کی بالائی حد بھی ختم کر دی تھی۔ تقریباً 80,000 عازمین حج نے حکومتی سکیم کے تحت فریضۂ حج ادا کیا، جبکہ باقی افراد کو پرائیویٹ حج آپریٹرز نے سہولت فراہم کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں