.

امیر کویت نے بحال شدہ پارلیمان تحلیل کر دی

آیندہ 60 روز میں نئے انتخابات کی راہ ہموار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کویت کے امیر شیخ صباح آل احمد الصباح نے بحال شدہ پارلیمان (مجلس الامہ) کو ساڑھے تین ماہ کے بعد دوبارہ تحلیل کر دیا ہے۔

کویت کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق امیر نے 2009ء کی پارلیمان کی تحلیل کے لیے شاہی فرمان جاری کردیا ہے۔ کویتی کابینہ نے گذشتہ بدھ کو امیر کویت کو پارلیمان کی تحلیل کی سفارش کی تھی اور یہ کہا تھا کہ پارلیمان جولائی میں اپنی بحالی کے بعد کوئی بھی اجلاس منعقد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ کویت کی آئینی عدالت نے اس پارلیمان کو جون میں بحال کیا تھا جبکہ حزب اختلاف اس حکومت نواز قانون ساز اسمبلی کی تحلیل کا مطالبہ کررہی تھی۔ اب قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ کویتی آئین کے تحت پارلیمان کی تحلیل کے بعد ساٹھ روز کے اندر (سات دسمبر سے قبل) نئے عام انتخابات ضروری ہیں۔ کویت میں اس سال میں یہ دوسرے اور گذشتہ چھے سال میں یہ پانچویں انتخابات ہوں گے۔

کویت کی تحلیل شدہ پارلیمان کی مدت مئی 2013ء میں مکمل ہونا تھی لیکن حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان اور سیاسی جماعتیں امیر کویت سے پارلیمان کو توڑنے اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 2006ء کے بعد کویت میں سات حکومتیں بن چکی ہیں جبکہ اس عرصہ میں سیاسی تنازعات کی وجہ سے پارلیمان کو پانچ مرتبہ توڑا گیا ہے۔

جون میں کویت کی آئینی عدالت نے فروری میں منعقدہ وسط مدتی انتخابات اور ان کے نتیجے میں منتخب ہونے والی اسمبلی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ان انتخابات میں پچاس ارکان پر مشتمل مجلس الامہ (اسمبلی) میں اسلامی جماعتوں نے اکثریت حاصل کی تھی لیکن آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں گذشتہ سال تحلیل کی گئی حکومت نواز اسمبلی کو بحال کردیا تھا۔

حزب اختلاف کے ارکان نے عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کردیا تھا اور اسے آئین سے بغاوت کا نام دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے قانون کے تحت حاصل اپنے اختیار سے تجاوز کیا تھا۔حزب اختلاف نے عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور آئینی عدالت سے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔