.

شام کی جانب سے گولہ باری کے بعد ترکی کا جوابی حملہ

سرحدی علاقے میں باغیوں کا کنٹرول مضبوط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی کی فوج نے شام کی جانب سے فائر کیا گیا ایک گولہ سرحدی قصبے آکچا قلعے میں گرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر شامی اہداف پر گولہ باری کی ہے۔

ترکی کے ٹی وی چینلز اور دوغان نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق شام کی جانب سے فائر کیا گیا گولہ ترک گرین بورڈ کے ملکیتی ایک پلانٹ کے نزدیک گرا ہے۔یہ جگہ آکچا قلعے سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ فوری طور پر اس واقعہ میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ترکی کے توپخانے نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شامی علاقے کی جانب گولہ باری کی ہے۔

درایں اثناء لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ہفتے کے روز باغیوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع قصبے خیربادالجوز پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد ان کا شام کے شمالی صوبہ ادلب کے سرحدی علاقوں پر کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا ہے۔

آبزرویٹری کے بیان کے مطابق خیرباد الجوز میں باغی جنگجوؤں اور فوج کے درمیان بارہ گھنٹے سے زیادہ دیر تک لڑائی جاری رہی تھی اور اس میں کم سے کم چالیس سرکاری فوجی اور نو باغی جنگجو مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ترکی کی پارلیمان نے جمعرات کو حکومت کی درخواست پر شام کی سرحد کے ساتھ فوجی دستوں کی تعیناتی اور اس کے سرحدی علاقے میں کسی جارحیت کی صورت میں فوجی کارروائی کی منظوری دی تھی۔ترک حکومت نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ شامی فوج کے جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں ترکی کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

شامی فوج نے بدھ کی شام سرحدپارترکی کے علاقے آکچاقلعے میں گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں پانچ ترک شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ان میں ایک ترک خاتون اور اس کے تین بچے بھی شامل تھے۔ ترک فوج نے اس جارحیت کے جواب میں جمعرات کو بھی سرحد پار گولہ باری کی تھی۔شام نے ترکی کے سرحدی علاقے میں گولہ باری پر معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ اس کا اعادہ نہیں ہو گا۔